Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 207

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ یہ تو ایسی چیز ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ عام انسان تو در کنار خود اللہ تعالیٰ نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ اس کی مخلوق پیشگی طور پر اپنے آپ کو متہم کر لیا کرے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو فرشتوں کو ایک اشکال پیش آیا تو انہوں نے کہا: اَتَجْعَلُ فِيْهَا مَنْ يَُفْسِدُ فِيْهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ (2:30) ۔ یعنی، کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں۔ فرشتوں نے ایسا نہیں کیا کہ اپنے آپ کو متہم کر کے چپ ہو جائیں۔ 17 ستمبر 1998 مولانا شبلی نعمانی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے ۔ فطرت انسانی جس قدر اختلاف کے لیے موزوں ہے، اتفاق کے لیے نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اختلاف کی حالت میں جس طرح تمام جذبات مشتعل ہو جاتے ہیں، اتفاق کی حالت میں نہیں ہوتے (مقالات شبلی، جلد 8، صفحہ 170)۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان اختلاف کے وقت زیادہ بھڑک اٹھتا ہے۔ کیوں کہ اختلاف کے وقت اس کی انا (ego) جاگ اٹھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کا امتحان سب سے زیادہ اختلاف کے وقت ہوتا ہے، اتحاد کے وقت نہیں۔ اختلاف کے وقت ہی یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی انسان کیا ہے اور کیا نہیں۔ کوئی آدمی کیسا ہے اس کو پہچاننے کا سب سے زیادہ صحیح وقت وہ ہے کہ اس آدمی سے آپ کا اختلاف ہو جائے۔ اختلاف پیدا ہونے سے پہلے تو ہر آدمی ٹھیک ہی رہتا ہے۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page