تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 208
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے بے اختلافی کی حالت کسی آدمی کو پہچانسے کے لیے کارآمد نہیں۔ عباسی خلافت کے زمانہ میں فقہائے اسلام نے ایک بہت اچھا اصول وضع کیا۔ فقه کے جزئیاتی مسائل میں ان کے درمیان بہت اختلاف تھا۔ اس اختلاف کو قابلِ برداشت بنانے کے لیے انہوں نے ایک اصول مقرر کیا: مَذْهَبِي صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ، وَمَذْهَبُ الْخَصْمِ خَطَأُ يَحْتَمِلُ الصَّوَاب (الردود والنقود للبابرتي الحنفی، جلد 1، صفحه 636)۔ یعنی، میری رائے درست ہے اس احتمال کے ساتھ کہ وہ غلط بھی ہو۔ فریق ثانی کی رائے غلط ہے اس احتمال کے ساتھ کہ وہ صحیح بھی ہو۔ اس اصول کا یہ فائدہ ہوا کہ فقہا اختلافات کے باوجود اجتماعیت پر قائم رہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جدید جمہوریت، اسی اصول کے سیاسی انطبا ق کا نام ہے۔ موجودہ جمہوریت میں ہر آدمی اپنی ایک سیاسی رائے رکھتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ دوسرے کو بھی یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی سیاسی رائے کو درست سمجھے اور یکساں طور پر اقتدار میں شرکت کا حقدار ہو۔ بدقسمتی سے مسلمانوں میں مذکورہ اصول فقہی جزئیات کے دائرے میں محدود رہا، وہ سیاسی دائرے میں رائج نہ ہوسکا۔ اس کا یہ نتیجہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان شخصی حکمرانی یا بادشاہت والی سیاست تو دنیا میں چلا سکے، مگر وہ جمہوری سیاست کو اختیار کرنے میں ناکام رہے۔ خلافت راشدہ کے بعد جمہوری سیاست مسلمانوں میں نہ پہلے کبھی تھی اور نہ آج ہے۔ سیاسی اعتبار سے یہ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ اس کمزوری کے ساتھ وہ جدید دور میں کبھی بھی کوئی طاقت ور سیاسی نظام نہیں بنا سکتے۔ قرآن کے بعد حدیث اسلام کا سب سے بڑا ماخذ ہے۔ پچھلے چودہ سو سال میں سب سے زیادہ کام حدیث پر ہوا ہے۔ مگر جو شخص بھی حدیث پڑھتا ہے اس کو حدیث سے کنفیوزن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader