Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 209

By Maulana Wahiduddin Khan

کے سوا اور کچھ نہیں ملتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قرآن ایک فکری کتاب ہے۔ اس میں عملی تفصیلات نہیں ۔ اس لیے قرآن کے مضامین میں فرق واختلاف کا سوال نہیں۔ مگر حدیث میں اسلامی زندگی کی عملی تفصیلات ہیں۔ اس لیے حدیث میں ہزاروں کی تعداد میں فرق اور اختلاف پائے جاتے ہیں۔ حدیث میں یہ فرق واختلاف فطری تنوع کی بنا پر تھا۔ مگر علما اور فقہا نے غلط طور پر یہ سمجھا کہ حدیث کو قرآن کی طرح ہونا چاہیے ۔ تمام حدیثوں سے ایک ہی مسلک اور ایک ہی مسئلہ نکلنا چاہیے ۔ چنانچہ انہوں نے حدیث میں لامناہی بحثوں کا سلسلہ چھیڑ دیا۔ ہر عالم اور ہر فقیہ حدیث میں وحدتِ مسلک تلاش کرنے لگا۔ اس کے نتیجہ میں وحدت تو حاصل نہیں ہوئی البتہ علمِ حدیث اختلافات کا ناقابلِ عبور جنگل بن گیا۔ میں نے اللہ کی توفیق سے یہ دریافت کیا کہ حدیثوں میں فرق و اختلاف فطری تنوع کی بنا پر ہے۔ یعنی ہر ثابت شدہ مسلک اپنی جگہ پر درست ہے۔ ان میں نہ کوئی افضل ہے اور نہ کوئی غیر افضل، ان میں نہ کوئی راجح ہے اور نہ کوئی مرجوح، ان میں نہ کوئی ناسخ ہے اور نہ کوئی منسوخ۔ اس دریافت کے بعد میں نے اپنی زندگی کا مشکل ترین کام شروع کیا ہے۔ یعنی آج کل مطالعہ حدیث (شرح مشکاة) کے نام سے میں شاید اپنی آخری کتاب لکھ رہا ہوں، جس میں تقریباً 7000 حدیثوں کی تشریح ہوگی۔ آج کی تاریخ تک 1211 حدیثوں کی تشریح ہو چکی ہے اور 610 صفحات لکھے جا چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کام کی تکمیل کا انتظام فرمائے۔ یکم فروری 2001 دور سائنس میں جو اچھی چیزیں ظہور میں آئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ دو اختلافی رائے رکھنے والے میز پر بیٹھ کر سنجیدہ تبادلۂ خیال کریں۔ یہی طریقہ مذہب میں بھی جاری کرنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page