Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 210

By Maulana Wahiduddin Khan

چاہیے ۔ مختلف مذاہب کو ایک ثابت کرنے کے بجائے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے درمیان سنجیدہ بحث کو رواج دیا جائے۔ لوگ جذبات اور تعصبات سے الگ ہو کر خالص علمی انداز میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں۔ ہر ایک اپنے نقطہ نظر کو خالص دلیل کی زبان میں بیان کرے۔ اور دوسرا بھی خالص دلیل کی زبان میں اس کا جواب دے۔ اس طرح سنجیدہ علمی بحث کے ذریعہ سچائی کو دریافت کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ سب کچھ علمی طریقہ پر ہو، نہ کہ مناظرانہ طریقہ پر۔ 14 فروری 2001 گلبرگہ (کرناٹک) کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ گلبرگہ کے ایک مدرسہ میں پڑھاتے ہیں اور وہاں کی مسجد میں امام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلبرگہ میں بدعات کا بہت زیادہ رواج ہے۔ مثلاً وہ لوگ مجھ سے فاتحہ دلواتے ہیں، جو مجھ کو بالکل غلط معلوم ہوتا ہے۔ میں نے ان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا: فاتحہ دیجیے، مگر فتویٰ نہ دیجیے۔ میں نے کہا کہ فاتحہ دینا صحیح ہے یا غلط اس کی بحث نہ کیجیے ۔ اپنی نیت کو درست رکھتے ہوئے جو وہ کہیں اس کو کر دیجیے۔ اس کے ساتھ مثبت انداز میں ان کی اصلاح کی کوشش کرتے رہیے۔ دھیرے دھیرے حالات اپنے آپ درست ہو جائیں گے۔ اس کے بجائے اگر آپ نے فتویٰ کا انداز اختیار کیا تو صرف اختلاف بڑھے گا اور کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ یکم جولائی 2001 عبادت کے مسائل میں جو اختلافات فقہا کے درمیان پائے جاتے ہیں، ان کی تطبیق امام شافعی نے اس طرح کی ہے : مَذْهَبِي صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ، وَمَذْهَبُ الْخَصْمِ خَطَأٌ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ (الردود والنقود لابن محمود البابرتي الحنفی، جلد 1، صفحہ 636)۔ میری رائے درست ہے احتمال خطا کے ساتھ اور فریق ثانی کی رائے غلط ہے احتمال صحت کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page