Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 211

By Maulana Wahiduddin Khan

ساتھ۔ میرے نزدیک تطبیق کا زیادہ درست فارمولا یہ ہے کہ یہ کہا جائے: رَأیی وَ رَأیی غَيْرِي کِلَاھُمَا يَحْتَمِلَانِ الصَّوَابَ۔ یعنی میری رائے بھی درست اور میرے علاوہ دوسرے شخص کی رائے بھی درست۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آمین بالجہر تھی درست اور آمین بالسربھی درست، رفع یدین کرنا بھی درست اور رفع یدین نہ کرنا بھی درست، وغیرہ۔ 19 اکتوبر 2002 بیدر سے محمد ظفر اللہ صاحب کا خط مورخہ 16 اکتوبر ملا۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ آپ کی فکر اندھیرے میں مرکزِ روشنی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ دنیا کے گوشہ گوشہ میں یہ فکر پھیلے۔ تمام انسانوں میں رواداری، تحمل، برداشت اور اعراض آجائے تو پھر یہ زمین قابل رشک ہوجائے گی۔ اس خط کا مختصر جواب دیتے ہوئے میں نے لکھا کہ صبر و تحمل کا مقصد زمین کو قابل رشک بنانا نہیں ہے بلکہ خود اپنے آپ کو قابل جنت بنانا ہے۔ 22 نومبر 2002 ایک کتاب دیکھتے ہوئے اس میں یہ کلمہ نظر سے گزرا۔ شوہر اور بیوی میں برابر تکرار ہوتی رہی، یہاں تک کہ دونوں نے طلاق لے لیا: The couple quarrelled constantly and finally got a زوجین کے درمیان علیحدگی اکثر اسی طرح ہوتی ہے۔ مگر علیحدگی اور طلاق کی یہ کوئی صحیح بنیاد نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فرق زندگی کا ایک حصہ ہے۔ اس لیے اختلاف اور نزاع بھی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ جب بھی زوجین کے درمیان غصہ اور نزاع کی حالت پیدا ہو تو حکمت کے ساتھ اس کو ڈیفیوز (defuse) کرنا چاہیے، نہ کہ اس کو علیحدگی کا سبب بنا لیا جائے۔ یہ زوجین علیحدگی کے بعد دوبارہ اسی انسانی سماج میں رہیں گے اور دوبارہ دوسرے لوگوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page