تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 212
By Maulana Wahiduddin Khan
ساتھ ان کا وہی نزاع ہو جائے گا جو اس سے پہلے میاں بیوی کی حیثیت سے ان کے درمیان ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ نزاع کے مسئلہ کا حل علیحدگی نہیں ہے بلکہ نزاع کو ٹالریٹ کرنا ہے۔ شیخ مصطفیٰ احمد الزرقاء حلب میں 1904 میں پیدا ہوئے۔ ان کی وفات 2002 میں سعودی عرب میں ہوئی۔ ان کی خاص صفت یہ تھی کہ ان کا حافظہ بہت اچھا تھا۔ چنانچہ وہ عربی کے علاوہ جرمن، فرانسیسی اور انگریزی زبانیں بھی جانتے تھے۔ انہوں نے کثرت سے کتابیں لکھی ہیں۔ فقہ کے بارے میں ان کی معلومات بہت وسیع تھیں۔ ان کا ایک واقعہ قابل ذکر ہے: 1960 میں شام کی دارالحانی دمشق میں ”فقہ اسلامی ہفتہ“ منعقد کیا گیا۔ مسلم فقہاء اور علمائے دین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ ان میں شیخ مصطفیٰ الزرقاء، شیخ محمد ابوزہرہ اور ڈاکٹر مصطفیٰ السباعی بھی تھے۔ ایک عصری فقہی مسئلہ میں شیخ زرقاء اور شیخ ابوزہرہ کے درمیان اختلاف ہو گیا۔ مسئلہ انشورنس (بیمہ) کا تھا۔ دونوں نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے مگر دونوں میں اتفاق نہ ہو سکا۔ ڈاکٹر السباعی سے دونوں کے اختلاف رائے کے بارے میں دریافت کیا گیا۔ انہوں نے جواب دیا۔ استاذ ابوزہرہ فقہ کا کتب خانہ ہیں اور استاذ زرقاء کو فقہ میں ملکہ حاصل ہے۔ (ترجمان دارالعلوم، فروری 2003، صفحہ 43) 7 مئی 2003 دہلی کے ایک تعلیم یافتہ ہندو خاتون لورین چو پرلاقات کے لیے آئیں ۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ انڈیا میں ہندو مسلم جھگڑوں کی جڑ مذہبی اختلاف ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ سب مذہب برابر ہیں اور سب مذہب یکساں طور پر سچے ہیں تو یہ آپس کا جھگڑا ختم ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ سوامی وویکانند اور مہاتما گاندھی جیسے بہت سے لوگ یہی بات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader