Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 213

By Maulana Wahiduddin Khan

کہتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر بھگوان داس نے اپنے لمبے مطالعہ کے بعد اس موضوع پر ایک تفصیلی کتاب تیار کی۔ وہ 929 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کا نام یہ ہے: The Essential Unity of All Religions by Bhagavan Das, Madras, 1932 میں نے کہا کہ یہ ایک غیر حقیقی اور غیر عملی نظریہ ہے۔ اگر بالفرض یہ مان لیا جائے کہ تمام مذاہب کی تعلیم ایک ہے، تب بھی موجودہ مذہبی جھگڑے ختم نہیں ہوں گے۔ اس لیے کہ آپ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہیں کہ مذاہب کے ٹیکسٹ کو یکساں ثابت کریں۔ مگر آپ انٹربریٹیشن کے اختلافات کو ختم نہیں کر سکتے۔ مثلاً بھگوت گيتا ایک کتاب ہے۔ مگر بال گنگا دھر تلک نے گيتا کا انٹربریٹیشن ہنساکے روپ میں دیا اور مہاتما گاندھی نے اہنسا کے روپ میں۔ ایسی حالت میں نتیجہ رخی کام تمام مذاہب کو یکساں ثابت کرنا نہیں ہے، بلکہ اہل مذاہب میں رواداری کا مزاج پیدا کرنا ہے۔ 14 مئی 2003 آج مسٹر یاسر ملاقات کے لیے آئے۔ وہ ریسرچ کے طالب علم ہیں اور جماعت اسلامی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ جماعت اسلامی کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ ایک نوجوان ہیں اور تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ کو اختلافی مسائل میں الجھاؤں۔ اس موضوع سے ہٹ کر آپ کو میں صرف دو چیز کا مشورہ دوں گا۔ اور وہ ہے - اخلاص اور علم۔ میں نے کہا کہ اللہ تعالی کے یہاں جو چیز سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ نیت کا اخلاص ہے۔ آپ اس اعتبار سے اپنا جائزہ لیتے رہیے۔ اور دوسری چیز یہ کہ آپ اپنی علمی تیاری میں کمی نہ کیجیے۔ اپنے علم میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کیجیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page