تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 214
By Maulana Wahiduddin Khan
امام حسن بصری 21 ھ میں مدینہ میں پیدا ہوئے اور 110 ھ میں بصرہ میں وفات پائی۔ ان کے تفسیری اقوال کو لے کر پانچ جلدوں میں ایک تفسیر چھپی ہے: ماتر المفسر الاثري تفسير الحسن البصري، شیر علی شاہ، کراچی، 1993 حسن بصری کے بہت سے عارفانہ قول مشہور ہیں۔ وہ انس بن مالک صحابی کے شاگرد تھے۔ ان کی روایت کردہ ایک حدیث یہ ہے: إِنَّ مِنَ السُّرَفِ أَنْ تَأْكُلَ كُلَّ مَا اشْتَهَيْتَ (سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 3352)۔ یعنی، یہ بھی اسراف ہے کہ تم ہر وہ چیز کھاؤ جس کی تمھیں خواہش ہو۔ امام حسن بصری آج ایک معروف اور مسلّم بزرگ اور عالم جانے جاتے ہیں۔ مگر اپنے زمانہ میں وہ ایک نزاعی (controversial) شخصیت تھے۔ بہت سے لوگ ان سے اختلاف رکھتے تھے۔ ان لوگوں نے مشہور کیا کہ حسن بصری شیعت کی طرف رجحان رکھتے ہیں۔ وہ جبر و قدر کے معاملہ میں عام علما سے ہٹے ہوئے ہیں۔ اور یہ کہ وہ حلول کے قائل ہیں۔ حتی کہ ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ حدیثیں وضع کرتے ہیں، وغیرہ۔ آج کسی شخص سے لوگوں کو کچھ اختلاف ہو جائے تو فوراً وہ اس کو نزاعی شخصیت قرار دے دیتے ہیں۔ حالاں کہ محض اختلاف رائے سے کوئی شخص نزاعی شخصیت نہیں بنتا۔ مثلاً جیسا کہ معلوم ہے کچھ لوگوں کو حضرت عثمان سے سخت اختلاف ہوا۔ اس طرح کچھ لوگوں کو حضرت علی سے سخت اختلاف ہوا۔ اسی طرح کچھ لوگوں کو حسن اور حسین سے اختلاف ہوا۔ اسی طرح حسن بصری، محدث البخاری، احمد بن حنبل النصرانی، ابن تیمیہ، ابن رشد اور شاہ ولی اللہ وغیرہ وغیرہ ہر ایک سے ان کے ہم عصروں نے سخت اختلاف کیا۔ مگر اس بنا پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ لوگ نزاعی شخصیت تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص رواجی اسلوب سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader