تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 215
By Maulana Wahiduddin Khan
ہٹ کر کچھ کہے تو لوگ اس کو نزاعی شخصیت قرار دیتے ہیں۔ آج کل dialogue کا لفظ بہت بولا جاتا ہے یعنی اختلافی مسائل میں باہم بات چیت۔ مگر دنیا بھر میں ہزاروں dialogue کے باوجود اس کا کوئی فائدہ نہ ہوسکا۔ اس کا سبب dialogue کا غیر حقیقت پسندانہ تصور ہے۔ انگریزی لغت کی کتاب ویبسٹر میں dialogue کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے: Dialogue means discussion between different ideas in seeking harmony. فرق واختلاف فطرت کا ایک حصہ ہے، اس کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں فرق واختلاف کو ختم کرنے کے لیے dialogues کرنا ایک بے معنی بات ہے۔ صحیح یہ ہے کہ فرق واختلاف کو اپنے موافق استعمال کرنے کے لیے dialogue کیا جائے۔ 10 جولائی 2003 امام ابو یوسف (وفات 182ھ) اور امام محمد دونوں امام ابوحنیفہ کے شاگرد ہیں۔ ان کے درمیان صرف چند سالوں کا فرق ہے۔ امام ابوحنیفہ کی وفات 153ھ میں اور امام محمد کی 189ھ میں ہوئی۔ یعنی ان کے درمیان صرف ایک تہائی صدی کا فرق ہے۔ اس کے باوجو دان دونوں (ابو یوسف اور محمد) نے ایک تہائی مسائل میں امام صاحب سے اختلاف کیا ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ جو حالات ان دونوں نے دیکھے وہ امام صاحب نے نہیں دیکھے تھے اور جو چیزیں انہوں نے سنیں وہ امام صاحب نے نہیں سنی تھیں۔ امام محمد نے فرمایا: اگر میرے استاد نے وہ کچھ دیکھا اور سنا ہوتا جو میں نے دیکھا اور سنا ہے تو وہ بھی وہی کہتے کہ جو میں نے کہا ہے۔ اگر تیں سال سے اتنا فرق ہوسکتا ہے تو تیرہ صدیوں سے کتنا فرق ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader