Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 216

By Maulana Wahiduddin Khan

24 دسمبر 2001 کو کویت میں ایک سیمینار ہوا۔ اس کا موضوع تھا: اسلامی ثقافت میں اعتدال اور میانہ روی (ثَقافَةُ الْأُمَّةِ الْوُسْط)۔ مذکورہ موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے یہ بات کہی۔ 30 جولائی 2003 دو صاحبان ملاقات کے لیے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک خاص مشن پر انڈیا آئے ہیں۔ ان میں سے ایک برونئی کے تھے اور دوسرے ملایشیا کے۔ ان کے نام یہ ہیں: Seah Ling Pau (Brunoi) Dr. Happy Tong Chan Wah M.D (Malaysia) انہوں نے کہا کہ وہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ہر مذہب کا پیغام صرف ایک ہے۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اس مشترک مقصد کے اوپر تمام مذاہب کو متحد کریں۔ ان کے بیان کے مطابق، دنیا بھر میں تقریباً بیس ملین آدمی ان کے حامی بن چکے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ نظریہ بہت سے لوگ پیش کر چکے ہیں ۔ مگر ہر ایک اس میں ناکام ہوا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آپ جیسے لوگ، ہر مذہب میں کچھ منتخب اجزاء لے کر اس قسم کی یکسانیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ حالاں کہ کسی مذہب کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے اس کی ساری تعلیمات کو سامنے رکھنا ہوگا، نہ کہ صرف بعض تعلیمات، میں نے کہا کہ اختلاف فطرت کا حصہ ہے اور یہ اختلاف مذاہب کے درمیان بھی موجود ہے۔ آپ ان اختلافات کو ختم نہیں کر سکتے۔ اس لیے اتحاد کا صحیح فارمولا یہ ہے: Follow one and respect all. مزمار یہ کی پیدائش پولینڈ میں ہوئی ۔ وہ ایک عیسائی ہیں مگر اسلام کا انہوں نے کافی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page