تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 217
By Maulana Wahiduddin Khan
مطالعہ کیا ہے۔ انہوں نے ایک سکھ نوجوان سے شادی کی اور دہلی میں رہتی ہیں۔ انہوں نے جامعہ سے اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کیا ہے اور اب جامعہ سے پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولینڈ میں مختلف مذاہب کی ایک کانفرنس ہوئی اس میں کئی عرب علما بھی شریک تھے۔ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم اسلام کو ایک تاریخی subject کے طور پر لیتے ہیں: We take Islam as a historical subject. ماریہ نے بتایا کہ پروفیسر کے اس بیان پر عرب علما نے سخت احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ایک تاریخی subject نہیں ہے۔ اسلام ایک عقیدہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ میں غلطی عرب علما کی تھی، نہ کہ مذکورہ پروفیسر کی۔ مسلم علما کو اگر یہ حق ہے کہ وہ دوسرے مذاہب کو محرف مذاہب یا منسوخ مذاہب قرار دیں تو دوسرے اہل علم کو بھی یہ حق دینا ہوگا کہ وہ اپنے نظریہ کے مطابق اسلام اور دوسرے مذاہب کو تاریخی مظاہرہ (historical phenomenon) بتائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آزادی بھی یک طرفہ نہیں ہوسکتی۔ اگر ہم اپنے لیے رائے کی آزادی چاہتے ہیں تو دوسروں کے لیے بھی ہمیں رائے کی آزادی دینا ہوگا۔ دوسری بات یہ کہ اس طرح کے اختلافات ہمیشہ ڈائلاگ کا موضوع ہوتے ہیں، نہ کہ احتجاج یا شور و غل کا موضوع۔ 26 مئی 2005 پاکستان سے ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مسلک کے جھگڑے بہت زیادہ ہیں۔ فلاں مسلک والے امام کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ فلاں مسلک کا آدمی مر جائے تو اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھو۔ فلاں مسلک کے خاندان میں رشتہ نہ کرو۔ فلاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader