Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 218

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلک کے آدمی کے دستر خوان پر کھانا کھاؤ، وغیرہ۔ انہوں نے پوچھا کہ اس معاملے میں آپ کا نقطہ نظر کیا ہے؟ میں نے کہا کہ میں اس قسم کے اختلافات کو غلو سمجھتا ہوں ۔ اور غلو اسلام میں سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے ۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی غلو آمیز تحریکیں انگریزی نو آبادیات کے زمانے کی دین ہیں، اس سے پہلے ان کا کوئی وجود نہ تھا۔ چوں کہ مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد شروع کیا تھا، اس لیے مسلمانوں کے اتحاد کو توڑنے کے لیے انگریزوں نے مختلف پہلوؤں سے تفریقی کوشش کی گئیں۔ انگریزوں کا یہ فعل اسلام دشمنی کی بنا پر نہ تھا جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، بلکہ وہ اپنے دفاع کے طور پر تھا۔ میں نے کہا کہ ان اختلافات کا کوئی تعلق اسلامی شریعت سے نہیں ہے، بلکہ وہ انگریزوں کی وراثت ہے۔ آج بھی یہ جھگڑے صرف برصغیر ہند میں پائے جاتے ہیں۔ عرب ملکوں میں ان جھگڑوں کا کوئی وجود نہیں۔ عرب ملکوں میں اخوان المسلمین نے سیاسی جھگڑے ضرور کھڑے کیے ہیں۔ مگر جہاں تک مسلکی جھگڑوں کا تعلق ہے وہ عرب ملکوں میں موجود نہیں۔ 2 ستمبر 2005 دار العلوم دیو بند کے پڑھے ہوئے دو عالم ملاقات کے لیے آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ الرسالہ پڑھتے ہیں۔ آپ کی اکثر باتوں سے ہم کو اتفاق ہے البتہ کچھ باتوں میں اختلاف ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ اختلاف تو ہر ایک سے ہو سکتا ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے امام مالک کا یہ قول دہرایا : كُلٌّ أَحَدٍ يُؤْخَذُ مِنْ قَوْلِهِ وَيُتْرَكُ إِلَّا صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ ( سیر اعلام النبلاء للذہبی، جلد 8 ، صفحہ 93) میں نے کہا کہ اس موقع کے لیے آپ کا یہ حوالہ درست نہیں۔ امام مالک نے یہ بات جزئیات شرع کے لیے کہی ہے، ان کی یہ بات کلیات شرع کے لیے نہیں تھی۔ اور اگر آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page