Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 219

By Maulana Wahiduddin Khan

الرسالہ پابندی سے پڑھتے ہیں تو آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہم جزئیاتی مسائل کو اپنا موضوع نہیں بناتے۔ ہم صرف اساسی مسائل دین کو اپنا موضوع بناتے ہیں اور اساسی مسائل دین میں اختلاف کا کوئی سوال نہیں۔ میں نے کہا کہ ایک بے حقیقی اختلاف اور دوسرا غلط فہمی کی بنا پر اختلاف۔ الرسالہ سے کسی کو حقیقی بنیاد پر اختلاف نہیں ہو سکتا۔ البتہ غلط فہمی کی بنیاد پر اختلاف ہو سکتا ہے اور اس کا حل یہ ہے کہ آپ صاحب تحریر سے رجوع کر کے اس معاملے کی وضاحت معلوم کر لیں۔ 16 ستمبر 2005 ایک لمبی حدیث ہے جس کے اندر یہ الفاظ آئے ہیں: اَلْجَمَاعَةُ رَحْمَةٌ، وَالْفُرْقَةُ عَذَابٌ (مسند احمد، حدیث نمبر 18449)۔ جماعت رحمت ہے، اور نا اتفاقی عذاب ہے۔ اس حدیث میں عام طور پر لوگ جماعت کو تنظیم کے معنی میں لے لیتے ہیں، یعنی تنظیمی گروہ۔ مگر یہ غلط ہے۔ اس حدیث میں جماعت سے مراد ملی اتحاد ہے۔ اور فرقہ سے مراد ملی انتشار ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب ملت کے اندر اتحاد ہوگا تو وہ ہر اعتبار سے کامیاب ہوگی اور جب اس کے اندر انتشار ہوگا تو وہ بے عزت اور ناکام ہو جائے گی۔ 29 ستمبر 2005 CPS ٹیم کے ایک صاحب سے میں نے کہا کہ مجھے ٹیم کے لوگوں میں ہر قسم کی اعلیٰ صلاحیت نظر آتی ہے۔ مگر یاد رکھیے کسی بھی انسانی گروہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ صرف ایک ہوتا ہے۔ اور وہ ہے اختلاف کے وقت برداشت کا ثبوت نہ دینا۔ اختلاف کو نظر انداز کر کے بدستور متحد نہ رہنا۔ اس صلاحیت کو میں آرٹ آف ڈفرنس مینجمنٹ کہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ ڈفرنس یا اختلاف ایسی چیز ہے جو ہمیشہ پیدا ہوتی ہے۔ اصحابِ رسول میں اختلافات پیدا ہوئے۔ یہاں تک کہ ایک زمانے میں دو پیغمبر ہوں تو ان میں بھی اختلاف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page