Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 220

By Maulana Wahiduddin Khan

پیدا ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ اور ہارون کے درمیان اختلاف پیدا ہوا اور وہ صورت پیش آئی جس کو قرآن میں حضرت ہارون کی زبان سے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلَا بِرَأْسِي (20:40)۔ یعنی، تم میری داڑھی نہ پکڑو اور نہ میرا سر۔ 3 مارچ 2007 2 مارچ 2007 کو اردو صحافت کے پندرہ صاحبان آئے۔ یہ لوگ مولانا آزاد اردو یونیورسٹی (حیدر آباد) کے شعبہ صحافت سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے ساتھ پروفیسر عبدالرحیم بھی تھے جو یونیورسٹی میں صدر شعبہ صحافت ہیں۔ ان لوگوں سے دیر تک بات ہوئی۔ گفتگو کے دوران ایک صاحب نے کہا کہ آپ مسلمانوں کے درمیان متنازعہ شخصیت بن گئے ہیں۔ زیادہ اچھا یہ تھا کہ آپ اپنے آپ کو اس سے بچاتے ہوئے کام کرتے۔ میں نے کہا کہ اختلاف اور نزاع میں فرق ہے۔ مجھ سے بعض معاملات میں لوگ اختلاف کرتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں مسلمانوں کے درمیان متنازعہ شخصیت ہوں۔ مجھ سے جن لوگوں کو اختلاف ہے، وہ صرف بعض امور میں طریقِ کار کو لے کر ہے۔ متنازعہ شخصیت بننے کے لیے ضروری ہے کہ اُس سے کسی مسئلہ عقیدے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہو، جب کہ میرے بارے میں ایسا نہیں ہے۔ اگر محض اختلاف سے کوئی شخص متنازعہ شخصیت بنتا ہو تو مسلم تاریخ کی تمام شخصیات متنازعہ شخصیت بن جائیں گی ۔ کیوں کہ پوری مسلم تاریخ میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں جس سے کسی نہ کسی معاملے میں اختلاف نہ کیا گیا ہو۔ 7 مئی 2007 قرآن کی سورہ نمبر 2 میں یہ آیت آئی ہے : فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ (2:102)۔ یعنی، وہ ان سے وہ چیز سیکھتے جس سے مرد اور اس کی عورت کے درمیان جدائی ڈال دیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page