تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 221
By Maulana Wahiduddin Khan
ہمارے مفسرین عام طور پر اس آیت کو یہود سے جوڑتے ہیں۔ اس کو پڑھ کر لوگ صرف یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں صرف یہود کی ایک برائی کا ذکر ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا ایک وسیع مفہوم بھی ہے، وہ یہ کہ ایک عورت اور ایک مرد جب نکاح کر کے میاں بیوی بن جائیں تو ایسی کوئی حرکت کرنا، سخت شیطانی کام ہے جس سے دونوں کے درمیان تعلق بگڑتا ہو اور طلاق کی نوبت آتی ہو۔ 11 جولائی 2007 ایک بڑے عالم دین کا اسی مہینہ میں انتقال ہو گیا۔ وہ ایک مخلص اور با اصول آدمی تھے ، ان کے بارے میں ایک مضمون ماہ نامہ الفرقان (لکھنؤ) جولائی 2007 میں چھپا ہے۔ مضمون نگار مولانا کے شاگرد ہیں۔ اُن کے بارے میں وہ لکھتے ہیں: ”مولانا کو فقہ حنفی سے خاص مناسبت تھی۔ بلکہ اس کے بارے میں شدید تھے۔ ایک مرتبہ خود فرمایا کہ میرا ذہن حنفیت کے لیے دلائل ڈھونڈنے میں ویسے چلتا ہے، جیسے ڈھال پر پانی۔ لیکن اس کے باوجود دیگر ممالک کے علما واثمہ کے احترام اور ان کے مسالک کے بیان میں کوئی کمی نہ ہوتی تھی۔“ (صفحہ 46) حنفیت کیا ہے ۔ حنفیت، دراصل جزئیات شریعت میں مختلف ترجیحات کے درمیان ایک ترجیح کو اختیار کرنے کا نام ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں تصلب ، غلو کی تعریف میں آتا ہے۔ میری سمجھ کے مطابق، جزئیات میں تصلب درکار نہیں ہے، بلکہ توّسع اور تنوع درکار ہے۔ یہ بات خود حدیث سے ثابت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ بِأَيِّھِمْ اَقْتَدَیْتُمُ اھْتَدَیْتُمْ (جامع بیان العلم وفضلہ، حدیث نمبر 1760 )۔ یعنی، میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی بھی پیروی کرو، تم ہدایت پر رہوگے۔ اس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader