تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 222
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ صحابہ کے درمیان جزئیات شریعت میں اختلاف ہوگا۔ اگر اختلاف نہ ہو تو یہ کہنے کا کوئی مطلب نہیں کہ: بِأَيِّهِمْ اَقْتَدَيْتُمْ اَهْتَدَيْتُمْ (تم ان میں سے جس کی بھی پیروی کرو، تم ہدایت پر رہو گے)۔ ایسی حالت میں جولوگ فقہی جزئیات میں تشدد دکھاتے ہیں، وہ صرف یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ انھیں دین کی معرفتِ اعلیٰ حاصل نہیں ہوئی۔ میرے تجربے کے مطابق، معرفتِ اعلیٰ کے ساتھ یہ ذہن جمع نہیں ہوسکتا۔ 5 جنوری 2008 آج مسٹرمیگھانی (Mihir Meghani, M.D) ملاقات کے لیے آئے۔ وہ امریکا میں پیدا ہوئے اور اب وہیں رہتے ہیں۔ وہ ہندوامریکن فاؤنڈیشن کے صدر ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کی تنظیم کا مقصد کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ مذہب کے دائرے میں پلورلزم (pluralism) کو فروغ دینا ہے، یعنی یہ نظریہ کہ تمام مختلف مذاہب سب کے سب یکساں طور پر حق ہیں، ان میں کوئی فرق نہیں۔ میں نے کہا کہ اس قسم کا نظریہ مذہب کے دائرے میں ڈائیلاگ کو ختم کرنے کے ہم معنی ہے۔ دوسرے تمام علمی شعبوں میں اختلافِ رائے کو برداشت کرتے ہوئے ڈائیلاگ کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ کیوں کہ اس سے علمی اور ذہنی ارتقا کا عظیم مقصد حاصل ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں مذہب کے معاملہ میں یہ تضاد کیوں۔ میں نے کہا کہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دوسرے علمی شعبوں میں تو ارتقا (development) کا عمل جاری رہے گا، اور مذہب کے دائرے میں یہ عمل رک جائے گا۔ انھوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ آج کشمیر کے ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے اپنا نام عبدالرحمن بتایا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader