Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 223

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے کہا کہ امت میں اتفاق نہیں، آپ لوگ جو قوم کے رہنما ہیں، اسٹیج پر کیوں نہیں ہوتے۔ آپ لوگوں کو چاہیے کہ ایک اسٹیج پر آ کر اور ایک آواز کی صورت میں سب کو اتفاق کی تلقین کریں۔ میں نے کہا کہ علما اور رہنماؤں کا ایک اسٹیج پر آنا، قوم کے اندر اتفاق پیدا نہیں کر سکتا۔ ہمارے علما اور رہنما بار بار ایک اسٹیج پر اکٹھا ہوئے ہیں۔ مثلاً آزادی سے پہلے تمام لوگ آل انڈیا مسلم لیگ کے اسٹیج پر اکٹھا ہوئے ہیں، مگر آج پاکستان میں علما اور رہنما آپس میں لڑ رہے ہیں۔ آزادی کے بعد آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت بنی۔ اُس میں بھی علما اور رہنما ایک اسٹیج پر اکٹھا ہوئے۔ اس کے بعد آپس میں لڑ کر الگ الگ ہو گئے۔ اس کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ بنا۔ اس میں بھی علما اور رہنما ایک اسٹیج پر اکٹھا ہوئے، مگر اس کے ذریعے قوم میں اتفاق نہ آسکا، وغیرہ۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ اتفاق کی اپیل کا نہیں ہے۔ اتفاق کی اپیل تو ہزاروں بار کی جا چکی ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ لوگوں کو اتفاق کا فارمولا معلوم نہیں۔ وہ فارمولا ہے ــــ اختلاف کے باوجود متحد ہونا۔ اتحاد قائم ہوتا ہے اختلاف کو برداشت کرنے سے، نہ کہ اختلاف کو مٹانے سے۔ 2008 مئی 23 مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب انصار اور مہاجرین کے درمیان اختلاف ظاہر ہوا، تو ایک صحابی، ابو عبیدہ نے انصار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تم لوگ سب سے پہلے خدا کے دین کی نصرت کر کے خدا اور اس کے رسول کے انصار بنے تھے (إِنَّكُمْ أَوَّلُ مَنْ نَصَرَ)، اب تم دین میں اختلاف اور انتشار کی پہل کرنے والے نہ بنو۔ یہ سننا تھا کہ انصار اختلاف سے رک گئے (تاریخ الطبری، جلد 3، صفحہ 221)۔ یہ رول ہر زمانے میں مطلوب ہے ۔ اصل یہ ہے کہ عوام مخلص ہوتے ہوئے بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page