Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 224

By Maulana Wahiduddin Khan

جذبات کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ایسی حالت میں خواص میں سے ایک شخص کو کھڑا ہونا پڑتا ہے جو امر حق کی طرف ان کی رہنمائی کرے ۔ مگر موجودہ زمانے کے علما نے یہ رول انجام نہیں دیا۔ بار بار ایسا ہوا کہ عوام نے جذباتی تحریکیں اٹھائیں ، مگر خواص علما ایسے موقع پر خاموش رہے، غالباً اس ڈر سے کہ وہ عوام سے کٹ جائیں گے ۔ خواص علما کے اِس رویے کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو صحیح رہنمائی نہ مل سکی ۔ مسجد کان پور (1913)، مسجد ایودھیا (1992)، قضیہ فلسطین (1948)، اور قضیہ کشمیر (1979) اس کی چند مثالیں ہیں۔ 19 دسمبر 2008 عباسی دور میں فقہا نے احکام شریعت کی تدوین کی ۔ اس وقت ان کے سامنے یہ مسئلہ پیش آیا کہ عبادت کے فارم کے بارے میں صحابہ کی رائیں اور اُن کی روایتوں میں اختلاف ہے۔ فقہا نے اس معاملے کے حل کے لیے ترجیح (preference) کا اصول اختیار کیا، یعنی کسی ایک کو راجح قرار دے کر دوسری رایوں کو چھوڑ دینا۔ ترجیح کا یہ اصول خالص قانونی معاملات میں درست تھا، جن کا تعلق عدالت سے ہوتا ہے، نہ کہ عام انسان سے ۔ مگر انھوں نے عبادت کے معاملے میں بھی ترجیح کے اصول کو اختیار کیا ۔ اس بنا پر مختلف فقہی اسکول بن گئے ۔ میرے نزدیک فقہا کا یہ مسلک درست نہیں ۔ عبادت کے معاملے میں فرق کو تنوع (diversity) اور توسع پر محمول کیا جائے گا، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے : بِأَيِّهِمْ اِقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ (جامع بیان العلم وفضله، حدیث نمبر 1760 ) ۔ یعنی ، تم ان ( صحابہ ) میں سے جس کی بھی پیروی کرو، تم ہدایت پر رہو گے ۔ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو اختلافات ہوئے ، اُن کی دو قسمیں ہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page