Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 226

By Maulana Wahiduddin Khan

اِس کی ایک مثال آج سامنے آئی۔ آج کل میں اپنی پوتی سعدیہ سے روزانہ انگریزی آرٹیکل لکھواتا ہوں۔ وہ لیپ ٹاپ لے کر اس پر ٹائپ کرتی رہتی ہیں۔ آج میں قرآن کی سورہ فصلت کی اس آیت پر لکھوارہا تھا: ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34) - یعنی، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ میں نے سعدیہ کو آرٹیکل کا عنوان ان الفاظ میں بتایا: Making Friend out of Enemy سعدیہ نے اِس عنوان سے اختلاف کیا۔ سعدیہ نے کہا کہ یہ مضمون ہم انگریزی پرچے کے لیے لکھ رہے ہیں۔ enemy ایک نیگیٹو لفظ ہے اور انگریزی پرچے والے نیگیٹو لفظ کو پسند نہیں کریں گے ۔ میری لڑکی ڈاکٹر فریدہ خانم اُس وقت موجود تھیں ۔ انھوں نے دوسرا عنوان یہ تجویز کیا: Transforming enmity into Friendship اس طرح بحث ہوتی رہی ۔ میرا ذہن مزید سوچتا رہا ، یہاں تک کہ انگریزی شاعر کولرج (Samuel Taylor Coleridge, 1172-1834) کی مشہور نظم کی ایک لائن (water, water everywhere) مجھے یاد آئی اور اس کے مطابق ، یہ عنوان میرے ذہن میں آگیا : Friends, Friends Everywhere. اِس آخری عنوان کو سب نے فوراً پسند کر لیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page