تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 227
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانہ میں اسلام میں دُخَن پیدا ہو جائے گا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3606)۔ یعنی نقص یا کمزوری۔ یہ پیشین گوئی پوری طرح درست ثابت ہوئی۔ بعد کے زمانے کے مسلمانوں نے صرف ایک کام آئیڈیل انداز میں کیا۔ وہ ہے قرآن کی حفاظت۔ یہ کام آئیڈیل انداز میں اس لیے ہو سکا کہ براہِ راست خدا نے اس کا ذمہ لے لیا ہے۔ اس کے سوا ہر کام جو مسلمانوں نے کیا اس میں کوئی نہ کوئی نقص شامل ہے۔ بعد کے زمانے میں مسلمانوں نے قرآن کی تفسیر کی تو اس سے منصوبۂ تخلیق سے آگاہی کو حذف کر دیا۔ اسی طرح انھوں نے احادیث رسول کی تدوین کی تو اس میں ہر قسم کے ابواب موجود تھے، مگر یہاں بھی منصوبۂ تخلیق سے آگاہی کا باب حذف تھا۔ پھر مسلمانوں نے فقہ کی تدوین کی تو اختلافات کو توسیع پر محمول کرنے کے بجائے اس میں ترجیح کا اصول منطبق کر دیا۔ اسی بنا پر کئی فقہی اسکول بن گئے۔ انھوں نے تاریخ لکھی تو اسلامی تاریخ کی تصغیر کر کے اس کو محض سیاست نامہ بنا کر رکھ دیا۔ بیسویں صدی میں مسلمانوں کا سیاسی زوال ہوا تو دوبارہ مسلمانوں کو سیاسی احیا پر ابھارنے کے لیے اسلام کی سیاسی تفسیر کر ڈالی۔ اس طرح وہ چیز جو ایک عملِ مسلک کی حیثیت رکھتی تھی، اس کو عقیدہ کا مسئلہ بنا دیا، وغیرہ۔ 16 مئی 2011 حیدر آباد سے حبیب بھائی کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک عرصے سے میں نے ہر کام چھوڑ دیا ہے اور صرف کتابوں کا مطالعہ کرتا ہوں۔ میں نے پایا کہ علما اور مفسرین کی رایوں کے درمیان بہت زیادہ تضاد ملتا ہے۔ اس حالت میں صحیح رائے تک کیسے پہنچا جائے۔ میں نے کہا کہ تضاد ایک اضافی لفظ ہے۔ رایوں میں اختلاف یقیناً پایا جاتا ہے، لیکن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader