تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 228
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کو تضاد کہنا درست نہیں۔ دوسری بات میں نے یہ کہی کہ مطالعے کا معیار یہ نہیں ہے کہ آپ ایک اتفاقی رائے تک پہنچ جائیں۔ اتفاقی رائے ایک خارجی لفظ ہے۔ مطالعے کا صحیح معیار یہ ہے کہ مطالعے کے ذریعے خود آپ کے اندر ذہنی ارتقا ہوتا ہے یا نہیں۔ میں نے کہا کہ میری ملاقات بہت سے ایسے لوگوں سے ہوئی ہے جنہوں نے کتابوں کا بہت زیادہ مطالعہ کیا تھا۔ جب میں نے ان کا حاصل مطالعہ پوچھا تو وہ دوسروں پر تنقید کرنے لگے۔ میں نے کہا کہ میں آپ سے یہ نہیں پوچھ رہا ہوں۔ بلکہ میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ خود آپ کو وزڈم کی کوئی بات ملی۔ بار بار پوچھنے کے باوجود وہ کوئی ایک بھی وزڈم کی بات نہ بتا سکے۔ میں نے کہا کہ مطالعے کا مقصد دوسروں کی غلطیوں کو در یافت کرنا نہیں ہے، بلکہ خود اپنے لیے کوئی مثبت حقیقت کو در یافت کرنا ہے۔ 2011 جون 10 Voltaire on democracy: I disapprove of what you say, but I will defend to the death your right to say it. (The Friends of Voltaire by S. G. Tallentyre, London, 1960, p. 199) یہ فرنچ فلاسفر والٹیئر (1778-1694) کا قول ہے۔ اس نے کہا کہ جو تم کہہ رہے ہو، اس سے مجھے اختلاف ہے، لیکن میں مرتے دم تک تمہارے حق اختلاف کی حمایت کروں گا۔ یہی موجودہ ڈیموکریسی کی روح ہے۔ مسلم ملکوں میں ڈیموکریسی کا نظام قائم نہ ہو سکا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں یہ روحِ جمہوریت موجود نہیں۔ پاکستان اور ایران اور لیبیا جیسے کئی مسلم ممالک جمہوریت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن وہاں جمہوریت قائم نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان ملکوں کے مسلمانوں میں اختلاف رائے کو برداشت کرنے کا مزاج نہیں۔ ان کا نظریہ بر عکس طور پر یہ ہے کہ تم اپنے اختلاف کو ختم کرو، ورنہ میں تم کو گولی مار دوں گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader