تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 229
By Maulana Wahiduddin Khan
فرینچ فلاسفر والٹییر (1694-1778) کا ایک قول یہ ہے: I disapprove of what you say, but I will defend to the death your right to say it. (The Friends of Voltaire, 1960, p. 199) والٹیئر کا مذکورہ قول جمہوریت کی روح کو بتاتا ہے۔ جمہوریت کی روح ایک لفظ میں یہ ہے کہ لوگوں کو اختلاف رائے کا مطلق حق حاصل ہو۔ یہ تصور فرینچ انقلاب (1789) کے بعد اپنی موجودہ شکل میں آیا۔ اس کو آج کل کی زبان میں ، حق اختلاف (right to dissent) کہا جاتا ہے۔ یہ حق بہت زیادہ اہم ہے۔ قدیم زمانے میں یہ حق تسلیم شدہ نہیں تھا۔ چنانچہ اکثر ذہین لوگ مار ڈالے گئے۔ مثال کے طور پر پچھلے سوسال میں افغانستان میں ٹاپ کے بارہ لوگ محض اختلاف کی بنا پر مار ڈالے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں علمی اور ذہنی ارتقا مغربی ملکوں میں ہوا، وہ مشرقی ملکوں میں نہ ہوسکا۔ 10 اکتوبر 2011 میں نے اپنے ایک ساتھی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص میرے بارے میں تنقید یا اختلاف کرے تو آپ ہرگز اس سے بحث نہ کریں، بلکہ صرف یہ کریں کہ اس کو ہمارے مشن کی کوئی کتاب پڑھنے کے لیے دے دیں۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ جب آپ اس سے بحث کریں گے تو بہت جلد یہ بحث دو آدمیوں کے درمیان "انا" کا ٹکراؤ (ego clash) بن جائے گا۔ مگر جب آدمی کتاب پڑھتا ہے تو اس وقت کوئی دوسرا شخص اس کے سامنے نہیں ہوتا جس کے ساتھ "انا" کا ٹکراؤ پیش آئے۔ یہی طریقہ حکمت کے مطابق ہے۔ تنہائی میں جب آدمی کتاب پڑھتا ہے تو وہ اس پوزیشن میں پڑتا ہے کہ وہ معقول ذہن کے تحت کتاب کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader