تاثرات و تجربات
Urdu book, p. 230
By Maulana Wahiduddin Khan
مضامین پر غور و فکر کرے اور معتدل ذہن کے تحت اس کے بارے میں رائے قائم کرے۔ نئی دہلی میں ایک کرسچن سینٹر ہے۔ اس کا نام ہے CIS ہاؤس ( جنگپورہ )۔ 17 نومبر 2011 کو اس سینٹر کے ہال میں ایک پروگرام تھا۔ اس میں اعلی تعلیم یافتہ عیسائی حضرات شریک تھے۔ اس میں ناروے کے تین پیس ایکٹوسٹ بھی موجود تھے ۔ اس اجتماع میں صرف میری تقریبھی ۔ اس میں مجھ کو ڈیڑھ گھنٹے کا وقت دیا گیا ، 45 منٹ تقریر اور 45 منٹ سوال و جواب۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔ اس موقع پر میرے ساتھیوں نے تمام شرکا کو تعارف اسلام پر مبنی لٹریچر دیا۔ اجتماع کے خاتمے پر اس کے کنویز اور ناظم ڈاکٹر سموئل تھامس ( فادر ) نے ہمارے ساتھی مسٹر رجت ملہوترا کو ایک لفافہ یہ کہتے ہوئے دیا کہ آپ نے پروگرام میں جو لٹریچر تقسیم کیا ہے، یہ اس کے لیے ہے۔ اس لفافے میں 5 ہزار روپے تھے ۔ یہ ایک انوکھا تجربہ تھا۔ اس اجتماع کا پورا انتظام مسیحی حضرات نے کیا تھا۔ انہوں نے ہمارے ساتھیوں کو پورا موقع دیا کہ وہ شرکا کے درمیان اسلامی لٹریچر تقسیم کریں۔ پھر آخر میں انہوں نے تقسیم کیے جانے والے لٹریچر کی قیمت بھی شکریہ کے ساتھ ادا کردی۔ یہ واقعہ دور جدید کے مزاج کو بتاتا ہے۔ دور جدید کے انسان کا مزاج یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود ہر ایک کا احترام اور اعتراف کرو۔ موجودہ زمانے کے مسلم علما اور رہنماؤں نے دور جدید کے اس مزاج کو نہیں سمجھا۔ وہ فرضی شکایتوں کو لے کر دور جدید کے خلاف ہو گئے ۔ اپنے اس منفی مزاج کی بنا پر وہ دور جدید کے ذہن کو اور اس کے امکانات کو سمجھ نہ سکے۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ وہ موجودہ زمانے میں دنیا کے سامنے مذہب کا مثبت تعارف پیش نہ کر سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader