Urdu book · حکمتِ اختلاف

تاثرات و تجربات

Urdu book, p. 231

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانوں کے درمیان ایک عجیب فرق پایا جاتا ہے ۔ کچھ لوگ جذباتی مزاج کے ہوتے ہیں ، اور کچھ لوگ متحمل مزاج ۔ اس فرق کا ایک تجربہ ہمارے مشن میں ہوا۔ لکھنؤ میں ہمارے مشن سے وابستہ ایک گروپ ہمارے یہاں کے شائع شدہ لٹریچر کو لوگوں میں تقسیم کر رہا تھا۔ اس پر ایک دینی ادارہ کے ذمہ دار سے ان کا اختلاف ہوا۔ چنانچہ ادارے کے ذمہ دار اور ان کے درمیان گفتگو ہوئی۔ دورانِ گفتگو لٹریچر تقسیم کرنے والے ایک صاحب نے کہا کہ آپ کے گرد جو لوگ جمع ہیں، وہ منافق قسم کے لوگ ہیں۔ میرے نزدیک یہ ایک جذباتی اور پرسنل ریمارک ہے، وہ کوئی علمی تبصرہ نہیں۔ دوسری طرف ساؤتھ انڈیا میں موجود ہمارے مشن سے وابستہ دوسرے گروپ کا ان کے ادارے سے اختلاف ہوا۔ اس وقت انھوں نے اپنے ادارے سے جواب میں صرف ایک بات کہی، وہ یہ کہ ہم کو عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر درکار ہے۔ آپ اگر سی پی ایس (نئی دہلی) کے سوا کوئی دوسرا لٹریچر دے دیں تو ہم اُسی کو استعمال کریں گے اور سی پی ایس کے لٹریچر کو چھوڑ دیں گے۔ اختلاف ایک فطری امر ہے، لیکن اختلاف کے وقت آدمی کو چاہیے کہ وہ علمی اسلوب میں اظہار خیال کرے۔ پرسنل ریمارک دینے سے وہ سختی کے ساتھ پرہیز کرے۔ 21 دسمبر 2013 انسان کے اندر سب سے زیادہ اعلیٰ صفت وہ ہے کہ جس کو صفتِ تفکیر (thinking quality) کہا جاتا ہے ۔ ہر انسان مکمل معنوں میں آزادانہ فکر کا حامل ہوتا ہے۔ انسان کی اسی تخلیقی صفت سے اختلاف رائے کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ انسانوں کے اندر اختلاف رائے ہمیشہ رہا ہے اور ہمیشہ باقی رہے گا، وہ کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ انسان کے لیے محفوظ موقف کیا ہے، یعنی وہ موقف جس کی بنا پر وہ اللہ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page