Urdu book · حکمتِ اختلاف

سوال و جواب

Urdu book, p. 235

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے کئی قدیم علما نے خفین پر مسح کرنا عقیدہ کے مسئلہ کے طور پر ذکر کیا ہے (الفقه الاکبر، صفحہ 45)۔ حالاں کہ وہ عقیدہ کا مسئلہ نہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے زمانہ میں کچھ لوگ خفین پر مسح کرنے میں کراہت محسوس کرنے لگے تھے، اس لیے انھوں نے اس کی اہمیت پر زور دینے کے لیے یہ فتویٰ دیا۔ اسی طرح مسلمانوں کے بارے میں بھی یہ دیکھنا ہے کہ موجودہ زمانہ میں ان کے اندر کیا کمی آ گئی ہے کہ ترقی کی دوڑ میں وہ دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کہنا ہوگا کہ حقیقت پسندانہ طرزِ فکر (realistic approach) ان کے اندر تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان عام طور پر جذباتی انداز میں سوچنے لگے ہیں۔ وہ اکثر جذباتی فیصلہ کے تحت اقدام کرتے ہیں۔ حالات کا گہرا تجزیہ اور تعمیری منصوبہ بندی کا مزاج ان میں باقی نہیں رہا۔ یہی ان کے موجودہ مسائل کا اصل سبب ہے۔ ایسی حالت میں موجودہ مسلمانوں کے لیے جس رہنمائی کی ضرورت ہے وہ یقینی طور پر یہی ہے کہ ان کے اس مزاج کی تصحیح کی جائے۔ ان کے اندر سے جذباتیت کا مزاج ختم کیا جائے۔ اس کے بجائے ان کے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کیا جائے۔ اس مزاج کا ایک اور تباہ کن نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان عددی اعتبار سے بہت بڑی طاقت ہیں۔ مگر اپنی بے اتحادی کی بنا پر وہ صرف ایک کمزور قوم بنے ہوئے ہیں۔ اس بے اتحادی کا واحد سبب یہی جذباتیت ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ معمولی اختلاف پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ وہ اختلاف کے وقت اپنا اعتدال کھو بیٹھتے ہیں۔ وہ اس شخص کے دشمن بن جاتے ہیں جو کوئی ایسی بات کہے جس سے وہ اختلاف رکھتے ہوں۔ فرق اور اختلاف ایک فطری حقیقت ہے۔ وہ ہر سماج میں اور ہمیشہ باقی رہتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page