Urdu book · حکمتِ اختلاف

سوال و جواب

Urdu book, p. 236

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت یہ ہے کہ فرق اور اختلاف کو مٹایا نہیں جاسکتا۔ صحابہ کرام کے زمانہ میں بھی ان کے اندر بہت سے اختلاف تھے۔ موجودہ دنیا میں اتحاد ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ لوگوں کے اندر اختلاف کو برداشت کرنے کا مزاج ہو۔ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا نام اتحاد ہے، نہ کہ اختلاف کے بغیر متحد ہونے کا، کیوں کہ غیر اختلافی سماج تو دنیا میں کبھی بنایا ہی نہیں جاسکتا۔ سوال اتحادِ ملت کے لیے وقتاً فوقتاً کوششیں کی جاتی ہیں مگر خاطر خواہ نتائج برآمد کیوں نہیں ہوتے، آپ کے خیال میں اتحادِ ملت کی راہ میں بنیادی رکاوٹیں کیا ہیں؟ جواب اتحادِ ملت کی رکاوٹ اتحاد کا غلط فارمولا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اختلاف کو ختم کرو تا کہ اتحاد قائم ہو۔ مگر یہ ایک غیر فطری بات ہے۔ اتحاد کا صحیح فارمولا یہ ہے کہ اختلاف کو برداشت کرو، تا کہ اتحاد قائم ہو۔ اختلاف کے باوجود متحد ہونے سے اتحاد قائم ہوتا ہے، نہ کہ اختلاف کو مٹانے سے۔ کیوں کہ اختلاف کو مٹانا تو عملاً ممکن ہی نہیں۔ مزید یہ کہ اختلاف کوئی برائی (evil) نہیں، بلکہ وہ عین رحمت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف ذہنی ارتقا کا واحد ذریعہ ہے، اگر اختلاف رائے نہ ہو تو ذہنی ارتقا کا عمل رک جائے گا۔ ایسی حالت میں اصل کام یہ ہے کہ اختلاف اور تنقید کے معاملہ میں لوگوں کی غیر ضروری حساسیت کو ختم کیا جائے، نہ کہ لا حاصل طور پر خود اختلاف کو مٹانے کی کوشش کی جائے۔ سوال مسلمانوں کے زوال اور انحطاط کا بنیادی سبب کیا ہے؟ اس زوال و انحطاط کا منبع کہاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page