Urdu book · حکمتِ اختلاف

سوال و جواب

Urdu book, p. 237

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے؟ اصلاحِ احوال کی ہر کوشش کیوں ناکام ہوگئی؟ اور یہ سوال کہ اس زوال وانحطاط کے منبع کو بند کرنے کی تدبیر کیا ہونی چاہیے؟ کیا اس کا سب سے بنیادی سبب ہمارے بیچ کئی لاکھ احادیث ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کے دوسوسال بعد مرتب کی گئیں یا کوئی دوسری وجہ ہے، براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔ (سید ثاقب علی ہاشمی، پٹنہ، بہار) جواب 1۔ امتِ مسلمہ کا زوال کسی پراسرار سبب کی بنا پر نہیں ہے۔ یہ ایک عام فطری قانون کی بنا پر ہے اور وہ وہی ہے جس کو ابن خلدون (وفات 1406) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: إنَّ الدَّوْلَةَ لَهَا أَعْمَارٌ طَبِيعِيَّةٌ كَمَا لِلْأَشْخَاصِ۔ جن گروہ کا کوئی نظریہ (ideology) نہ ہو، جس کا مقصد صرف کھانا کمانا ہو، اُس کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ عام حالات میں زوال کا شکار نہ ہو، لیکن ایسا گروہ جو ایک نظریہ یا آئیڈیالوجی کی بنیاد پر بنے، اُس کے لیے ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کی بعد کی نسلوں میں نظریاتی ضعف آجاتا ہے۔ وہ ایک نظریاتی گروہ کے بجائے صرف ایک قومی گروہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اسی حالت کا نام زوال ہے۔ یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا حال ہوا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں اسلام بطور نظریہ یا اسپرٹ باقی نہیں رہا، اب وہ صرف ایک کلچر کے طور پر باقی ہے، جیسا کہ زوال یافتہ قوموں کے درمیان ہمیشہ ہوتا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان ایک کلچرل گروپ کی حیثیت سے زندہ ہیں، نہ کہ ایک نظریاتی گروپ کی حیثیت سے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان بہت سی اصلاحی تحریکیں اٹھیں، مگر وہ سب کی سب اپنے نشانے کو حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ اس ناکامی کا سبب یہ تھا کہ موجودہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page