سوال و جواب
Urdu book, p. 238
By Maulana Wahiduddin Khan
زمانے کے مسلم رہنماؤں نے اس مفروضے کے ساتھ اپنا کام شروع کیا کہ یہاں ایک ”خیر امت“ موجود ہے اور اس کو زندہ کرنے کے لیے صرف یہ کرنا ہے کہ اس کے اندر جوش و ولولہ پیدا کر دیا جائے ۔ اقبال کا یہ شعر اسی ذہن کی نمائندگی کرتا ہے: نوارا تلخ تر می زن چو ذوق نغمہ کم یابی حدی را تیز تر می خواں چو محمل را گراں بینی یعنی اگر نغمہ کا شوق کم پاؤ تو اپنی آواز میں اور شدت پیدا کرو، اگراونٹ پر بوجھ بھاری ہو تو حدی خوانی کو تیز کرو۔ احیائے امت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان خیر امت نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک زوال یافتہ امت (degenerated community) ہیں۔ اس اعتراف کے بعد آپ کو صحیح نقطۂ آغاز مل جائے گا، یعنی لوگوں کے اندر سب سے پہلے ایمانی شعور پیدا کرنا۔ مزید یہ کہ اصلاح امت کا کام اصلاح افراد سے شروع ہوگا، اس طرح نہیں کہ مسلمانوں کی بھیڑ جمع کر کے اسٹیج سے اُن کے سامنے پرجوش تقریر کی جائے۔ یہ بھی صحیح آغاز نہیں کہ اسلام کے نام سے بڑے بڑے ادارے یا مسلم حکومتیں قائم کی جائیں۔ اس قسم کی کوششوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے دیمک زدہ لکڑی پر کوئی عمارت کھڑی کرنا۔ ایسا منصوبہ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ بعض جماعتوں نے اصلاح ایمان کے نام سے تحریکیں چلائیں، لیکن اصل نشانے کے اعتبار سے وہ بھی ناکام ہو گئیں۔ اس ناکامی کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے فضائل کی کہانیاں سنا کر امت کو بیدار کرنا چاہا۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے امانی (البقرہ، 2:78) کی بنیاد پر کسی قوم کو اٹھایا جائے۔ مگر فضائل کی کہانیوں یا امانی کی داستانوں کے ذریعے کسی زوال یافتہ قوم کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جا سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader