سوال و جواب
Urdu book, p. 239
By Maulana Wahiduddin Khan
زوال یافتہ امت کو دوبارہ زندہ کرنے کا صحیح طریقہ وہ ہے جو کہ مبنی بر افراد ہو، نہ کہ مبنی بر قوم۔ اس طریقے کو قرآن میں بتا دیا گیا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے آپ قرآن کی سورہ الحدید کی آیت 17 کا مطالعہ کیجیے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب ”قیادت نامہ“ کا مضمون: احیاء قلب، احیاء حکومت) 2۔ حدیث کی بنیاد پر مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے، نہ اُس کا کوئی تعلق زوال امت سے ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ”تجدید دین“ کا مضمون: فقہ) حقیقت یہ ہے کہ اختلاف ایک امر فطری ہے، وہ ہمیشہ ہوگا، اختلاف خالق کے تخلیقی منصوبے کا لازمی حصہ ہے۔ اختلاف کو ختم کرنا کسی انسان کے لیے ممکن نہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ اختلاف کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ برداشت کی عدم موجودگی ہے۔ زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہوا کہ وہ اختلاف کو ڈسکشن کا موضوع نہیں بناتے، اختلاف پیش آتے ہی وہ برہم ہوجاتے ہیں، یہ برہمی اتنی زیادہ بڑھتی ہے کہ ٹکراؤ اور جنگ کی نوبت آجاتی ہے۔ اگر آپ کو مسلمانوں کی اصلاح کرنا ہے تو اختلاف کے خاتمے کی ناممکن الحصول کوشش نہ کیجیے، بلکہ اُن کے اندر برداشت اور تحمل کی صفت پیدا کیجیے۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ اختلاف ان کے لیے رحمت بن گیا ہے۔ اختلاف کو اگر ڈسکشن (discussion) کا موضوع بنایا جائے تو اس سے ذہنی ارتقا ہوتا ہے۔ اور اگر اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے تو اختلاف تو ختم نہ ہوگا، البتہ قوم برباد ہوکر رہ جائے گی۔ سوال کسی کی تعبیر کی غلطی کو واضح کرنا اور تکفیر و تفسیق کا حکم لگانا، ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ (حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تمل ناڈو)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader