سوال و جواب
Urdu book, p. 240
By Maulana Wahiduddin Khan
جواب تعبیر کی غلطی کو واضح کرنا، زیر بحث موضوع کا علمی تجزیہ ہے۔ اس کے برعکس، تکفیر و تفسیق کا حکم لگانا، تنقیص کا فعل ہے۔ پہلی صورت میں زیر بحث موضوع کا علمی پہلو واضح ہوتا ہے۔ جب کہ دوسری صورت میں عملاً کسی شخص کی شخصی عیب زنی کا فعل انجام پاتا ہے۔ پہلی صورت علمی ارتقا کا ذریعہ ہے، اور دوسری صورت کا حاصل صرف یہ ہے کہ ایک شخص کے خلاف نفرت کے جذبات کو فروغ ملے۔ مثلاً ایک شخص جہاد کے موضوع پر ایک مضمون شائع کرتا ہے، اور اس میں لکھتا ہے کہ جہاد بمعنی قتال حسن لغیرہ ہے، حسن لذاتہ نہیں۔ یعنی وہ کوئی عقیدہ کا مسئلہ نہیں وہ ایک طریقہ کار (method) کا مسئلہ ہے۔ جہاد بمعنی قتال صرف ضرورت (necessity) کے تحت مطلوب ہوتا ہے، نہ کہ اس اعتبار سے کہ وہ بذات خود کوئی دینی فریضہ ہے۔ اس نقطۂ نظر پر کوئی شخص قرآن و حدیث کی روشنی میں تنقید کرے، اور علمی زبان میں اس کے صحت یا سقم کو واضح کرے، تو وہ ایک جائز فعل ہوگا۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ یہ شخص اسلام دشمن طاقتوں کا ایجنٹ ہے، وہ مسلمانوں کو فریضۂ جہاد سے ہٹانا چاہتا ہے۔ تو یہ صرف تنقیص یا الزام تراشی ہوگی۔ ایسی تنقید بلاشبہ ایک ناجائز فعل ہے۔ اسلام میں اس کا کوئی جواز نہیں۔ اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ کسی نے کچھ غلط لکھا ہے کہا ہے، تو آپ صرف یہ کیجیے کہ اس کی غلطی کو علمی طور پر واضح کیجیے۔ کیوں کہ اگر آپ الزام تراشی یا تنقیص کی زبان بولیں تو وہ سب وہ شتم ہوگا، جو اسلام میں جائز نہیں۔ حقیقت پسند انسان وہ ہے جو باتوں کو دلائل کے اعتبار سے دیکھے۔ جو بات دلائل سے درست ثابت ہو اس کو مانے، اور جو بات دلائل سے درست ثابت نہ ہو، اس کو رد کر دے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader