Urdu book · حکمتِ اختلاف

سوال و جواب

Urdu book, p. 241

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال باتیں دو طرح کی ہوتی ہیں یا مسائل، نظریات دو طرح کے ہوتے ہیں: (1) منصوصات، یعنی وہ باتیں جو براہِ راست طور پر قرآن یا حدیث میں بیان کی گئی ہیں۔ (2) مستنبطات، یعنی وہ باتیں جو براہِ راست طور پر قرآن و حدیث میں مذکور نہیں ہیں، بلکہ بالواسطہ طور پر ان کو قرآن وحدیث سے اخذ کیا گیا ہے۔ اول الذکر میں کسی کو اختلاف کی قطعاً گنجائش نہیں ہے۔ البتہ مستنبطات، یا مستخرجات میں دائرۂ اختلاف وسیع سے وسیع تر ہوتا ہے۔ سلف صالحین، ائمہ مجتہدین، محدثین تقریباً سبھوں نے اپنے فکر پر دلائل کے ساتھ قائم رہتے ہوئے اپنے مخالف کے بارے میں اس طرح اعلان کیا ہے ـــــ نَحْنُ عَلَى الصَّوَابِ مَعَ احْتِمَالِ الْخَطَإِ، أَنْتُمْ عَلَى الْخَطَإِ مَعَ احْتِمَالِ الصَّوَابِ (ہم درست راستے ہیں اگر چہ غلطی کا امکان ہے، اور دوسرے لوگ غلطی پر ہیں، اگر یہ امکان ہے کہ وہی حق پر ہوں)، اور یہ کہ غیر منصوصات پر اصرار کے غیر شرعی ہونے پر فقہائے امت کا تقریباً اتفاق ہے۔ ہر صاحبِ فکر جسے اللہ نے فکرِ مستقل سے نوازا ہو۔ اسے یہ اعلان کر دینا چاہیے کہ ـــــ أَنَا عَلَى الصَّوَابِ مَعَ احْتِمَالِ الْخَطَإِ، أَنْتَ عَلَى الْخَطَإِ مَعَ احْتِمَالِ الصَّوَابِ (میں درست راستہ پر ہوں اگر چہ میرے لیے غلطی کا امکان ہے، اور تم غلطی پر ہو، اگر چہ یہ امکان ہے کہ تم ہی حق پر ہو)۔ کیوں اختیارِ حق کے لیے راستہ صاف اور واضح ہے۔ (سید احمد اللہ بختیاری، حیدر آباد) جواب راقم الحروف کی تحریر میں زیادہ تر منصوصات سے متعلق ہوتی ہیں، نہ کہ مستنبطات سے متعلق۔ ایسی حالت میں ان تحریروں پر مذکورہ قسم کے احتمال کا اصول چسپاں نہیں ہوتا۔ مثلاً

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page