سوال و جواب
Urdu book, p. 242
By Maulana Wahiduddin Khan
میں یہ کہتا ہوں کہ مسلمانوں کی حیثیت داعی کی ہے اور غیر مسلموں کی حیثیت مدعو کی۔ یہ یقینی طور پر نص کا مسئلہ ہے، نہ کہ استنباط کا مسئلہ۔ موجودہ زمانہ میں کچھ مسلم رہنما اور مسلم اخبارات ملی مسائل کو لے کر بار بار ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ٹکراؤ کا ماحول پیدا ہو۔ اس کے مقابلے میں راقم الحروف کا کہنا یہ ہے کہ مسلم اور غیر مسلم کا تعلق خیر خواہانہ رشتہ پر مبنی ہے۔ اس نسبت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے معاملات میں غیر مسلموں سے نزاع کو اوائڈ کریں تا کہ وہ معتدل ماحول قائم ہو جس میں خدائی پیغام کو سمجھنے سمجھانے (افہام و تفہیم) کا پرامن عمل جاری رہ سکے۔ یہ نظریہ صراحۃً نص قرآنی پر مبنی ہے۔ مثلاً: فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْأَمْرِ وَادْعُ إِلَى رَبِّكَ (22:67)۔ یعنی ، پس وہ اس معاملہ میں تم سے جھگڑا نہ کریں۔ اور تم اپنے رب کی طرف بلاؤ۔ یقیناً تم سیدھے راستہ پر ہو۔ ایسی حالت میں اس مسئلہ کو بیان کرتے ہوئے مجھے یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ رَأْيِي صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ، وَرَأْيِى غَيْرِي خَطَاً يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ۔ یہی ہمیشہ خود علمائے امت کا موقف رہا ہے۔ وہ مذکورہ قسم کے جملے صرف مستنبطات کے بیان میں لکھتے ہیں نہ کہ منصوصات کے بیان میں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام میں نماز پانچ وقت کی نہیں ہے بلکہ صرف دو وقت یا تین وقت کی ہے۔ اس کے مقابلہ میں جب علما صالحین اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام میں رات اور دن کے درمیان پانچ وقت کی نمازیں فرض ہیں تو وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنے مضمون کے آخر میں لکھیں کہ نَحْنُ عَلَى الصَّوَابِ مَعَ احْتِمَالِ الْخَطَإِ، أَنْتُمْ عَلَى الْخَطَإِ مَعَ احْتِمَالِ الصَّوَابِ (ہم درست راستے ہیں اگرچہ غلطی کا امکان ہے، اور دوسرے لوگ غلطی ہیں، اگر یہ امکان ہے کہ وہی حق پر ہوں )۔ البتہ کچھ دوسرے قسم کے مسائل جن کی بنیاد نص پر نہیں ہے بلکہ استنباط پر ہے، ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader