Urdu book · حکمتِ اختلاف

سوال و جواب

Urdu book, p. 243

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بیان میں علما مذکورہ قسم کا اعتراف درج کرتے ہیں۔ مثلاً علما کا ایک طبقہ اگر یہ اصرار کرے کہ جراب پر مسح کی اجازت صرف اس جراب کے لیے ہے جو قدیم طریقہ کے مطابق چمڑے سے بنایا گیا ہو۔ اب دوسرا عالم اگر یہ کہے کہ صنعتی ریشوں سے بنے ہوئے جدید طرز کے موزوں کا بھی وہی حکم ہے اور ان پر بھی مسح جائز ہے، تو اپنے اس بیان کے ساتھ بطور احتیاط وہ مذکورہ قسم کے احتمالی الفاظ لکھ سکتا ہے، کیونکہ یہ دوسری قسم کا بیان استنباط پر مبنی ہے، نہ کہ براہِ راست نص پر۔ میں ایسے موقع پر ”غالباً“ جیسا کوئی لفظ استعمال کرتا ہوں۔ میری تحریروں کا دوسرا جز ء وہ ہے جس کا تعلق جدید حالات کی نسبت سے تدبیر کار پر ہے۔ مثلاً پرتشدد جدوجہد کے مقابلہ میں پرامن جدوجہد۔ جلسہ جلوس کے طریقہ کے بجائے گفت و شنید کا طریقہ، اختلافی معاملات میں محاذ آرائی کے بجائے حکیمانہ انداز، خارجی اقدام سے پہلے داخلی تیاری وغیرہ۔ یہ دوسری باتیں بھی اپنی اصل کے اعتبار سے منصوصات پر مبنی ہیں۔ البتہ چونکہ ان کا تعلق خارجی حالات سے ہے اور خارجی حالات بدلتے رہتے ہیں۔ اس لیے ان باتوں پر انطباق (application) کے اعتبار سے، ایک سے زیادہ رائیں ہوسکتی ہیں۔ اس پہلو سے ایک شخص یہ حق رکھتا ہے کہ وہ دلائل کے ذریعہ یہ بتائے کہ حالات کی نوعیت اس کے نزدیک اس سے مختلف ہے جو میں نے اپنے مطالعہ سے سمجھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں خود سنتِ رسول میں مختلف نمونے پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے جن مشرکین سے جنگ کی، اُنھیں مشرکین سے حدیبیہ کے موقع پر آپ نے صلح کرلی۔ اسی طرح آپ نے احد کے موقع پر مدینہ سے تین میل باہر جا کر مخالفین سے مقابلہ کیا، اور پھر احزاب کے موقع پر اُنھیں مخالفین سے مدینہ کے اندر رہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page