Urdu book · حکمتِ اختلاف

سوال و جواب

Urdu book, p. 244

By Maulana Wahiduddin Khan

کر دفاع کیا، وغیرہ۔ اس لیے شریعت کا یہ متفقہ اصول ہے کہ ۔ تَتَغَيَّرُ الْأَحْكَامُ بِتَغَيُّرِ اَلزَّمَانِ وَالْمَکَانِ۔ تدبیر کار سے متعلق میری جو تحریریں ہیں وہ اسی آخری نوعیت سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان تحریروں میں مسلمانوں کو جو مشورہ دیا جاتا ہے اس کے ردّ و قبول کی بنیاد یہ ہے کہ حالات کا بے لاگ مطالعہ کرکے ان کی حقیقی نوعیت کو سمجھا جائے اور پھر یہ دیکھا جائے کہ قرآن و سنت کے کون سے احکام ان حالات پر منطبق ہوتے ہیں۔ اس معاملہ میں اگر کسی کو مجھ سے اختلاف ہو تو اس کو الزام تراشی اور بہتان طرازی کے بجائے دلائل اور تجزیہ کی زبان میں بتانا چاہیے کہ میرے نقطۂ نظر کے بجائے دوسرا نقطۂ نظر قرآن وسنت سے کیوں اُس کے نزدیک زیادہ قریب ہے۔ سوال مولانا صاحب میری ایک مخصوص سوچ ہے کہ دنیا میں جس نے بھی اسلام کے لیے کام کیے، اٗس کی نہ ہی تمام باتیں اس لائق ہیں کہ اُن کو اپنایا جائے اور نہ ہی سب باتیں ایسی ہیں جن کو رد کیا جائے۔ ہمیں کسی کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ البتہ کسی کی بات سے ہمیں اختلاف ہو سکتا ہے اور یہ ہمارا حق ہے۔ (سہیل بشیر کار، کشمیر ) جواب 1۔ ”کسی کی ہر بات درست نہیں ہو سکتی“ یہ کوئی مطلق بات نہیں۔ اس طرح کے مفروضے کی بنیاد پر کسی کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ کسی کو اُس وقت تک درست مانیں جب تک اس کی کسی بات کو قرآن اور سنت کی واضح دلیل سے رد نہ کرسکیں۔ اسلام میں اس قسم کے مفروضے کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس قسم کے بے دلیل مفروضے کا نقصان یہ ہے کہ کہنے والے کے اندر یقین پیدا نہیں ہوتا۔ جب کہ یقین ہر ایک انسان کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page