سوال و جواب
Urdu book, p. 245
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک ایمانی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے: خَيْرُ مَا وَقَرَ فِي الْقُلُوبِ الْيَقِينُ، وَالْاِرْتِيَابُ مِنَ الْكُفْرِ (تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد 51، صفحہ 240)۔ یعنی، بہترین چیز جو دلوں میں اثر کرتی ہے وہ یقین ہے، اور شک کفر کی علامت ہے۔ اس مزاج کے لوگ ہمیشہ انفرادی زندگی گزاریں گے، وہ بھی کسی اجتماعی مشن کا حصہ نہ بن سکیں گے۔ وہ یقین کے ساتھ کسی سے جڑ نہیں سکیں گے۔ وہ شک کے ساتھ جئیں گے اور شک کے ساتھ اس دنیا سے چلے جائیں گے۔ اس طرح کے لوگوں کو اپنے اس مزاج کی دو بھاری قیمت دینی پڑتی ہے۔ ایک، حق کے معاملے میں بے یقینی، اور دوسرے، اجتماعی زندگی سے محرومی۔ اس طرح کی سوچ کے لوگ اکثر امام مالک کے اس مشہور قول کا حوالہ دیتے ہیں: كُلٌّ كَلَامٍ يُؤْخَذُ مِنْهُ وَيُرَدُّ (نَفح الطيب للمقری، جلد 1، صفحہ 109)۔ یعنی، ہر کسی سے بات لی جا سکتی ہے اور اس کی بات کو رد بھی کیا جا سکتا ہے۔ مگر مذکورہ قسم کے موقف کی تائید کے لیے یہ حوالہ غلط ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص قرآن اور حدیث کے حوالے سے ایک بات پیش کرے تو اُس کو لینا آپ کے اوپر فرض ہو جائے گا۔ یہ فرضیت صرف اُس وقت ختم ہوگی جب کہ آپ خود قرآن اور حدیث کے دلائل سے اُس کا نادرست ہونا ثابت کر دیں۔ اگر آپ کے پاس جوابی دلیل موجود نہیں ہے تو امام مالک کے قول کا حوالہ دے کر مذکورہ قسم کی بات کرنا، میرے نزدیک ایک گناہ کا فعل ہے، وہ کوئی صحیح علمی موقف نہیں۔ سوال آج مسلمانوں میں ایسی جماعتیں اور گروہ موجود ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ اسلام میں توحید پر زور دیا گیا ہے۔ لہٰذا جماعت اور تنظیم توحید کے اتفاقی مسئلے پر اٹھانی چاہیے اور یہ تنظیمیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader