Urdu book · حکمتِ اختلاف

سوال و جواب

Urdu book, p. 246

By Maulana Wahiduddin Khan

اور جماعتیں اپنے زعم کے مطابق توحید کے اتفاقی مسئلے پر کام کر رہی ہیں۔ یہ لوگ قرآن کی تمام توحید والی آیتوں کو عوام کے سامنے پیش کر کے کہتے ہیں کہ اے لوگو! توحید کو اختیار کرو اور شرک کو چھوڑو۔ اس کائنات میں کوئی داتا، دستگیر، حاجت روا، مشکل کشا اور غوث اعظم وغیرہ نہیں، سوائے مالک کائنات کے۔ اس طرح یہ لوگ قرآن کی تمام اُن آیتوں کو جن میں شرک کی مذمّت بیان ہوئی ہے، پیش کر کے کہتے ہیں کہ چونکہ یہ کلمہ پڑھنے والے شرک کرتے ہیں اور شرک کی موجودگی میں نیک اعمال قبول نہیں ہوتے۔ لہٰذا ہم موحد لوگ ان قبر پرستوں (بریلویوں اور شیعوں، وغیرہ) کے پیچھے نہ نماز پڑھیں گے اور نہ ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔ مسلمانوں کے اس طرح کے دعووں کو سامنے رکھتے ہوئے چند سوالات پیش خدمت ہیں امید ہے آپ تسلی بخش جواب دیں گے: 1۔ کلمہ پڑھنے کے بعد اگر شرک ہوتا ہے تو کیا ایسے شخص پر مشرک کا اطلاق ہوگا؟ 2۔ مسلم اور مشرک کی تعریف کیا ہے؟ کیا مسلمان مشرک ہوسکتا ہے؟ 3۔ مسلمانوں میں جو لوگ واضح شرک کرتے ہیں اُن کی اقتداء میں صلوٰۃ پڑھنے کی کیا دلیل ہے جب کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرک کے اعمال قبول نہیں ہوتے۔ 4۔ جب مشرک امام کی اپنی صلوٰۃ نہیں ہوتی تو موحّد مقتدی کی نماز کیسے ہوگی؟ 5۔ امتِ مسلمہ کے بہت سے علما اس بات کے قائل ہیں کہ سورہ یوسف کی آیت 106 کی روشنی میں کلمہ پڑھنے والے بھی مشرک ہو سکتے ہیں لہٰذا ان کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے۔ 6۔ جب شراب کا پینے والا شرابی کہلائے گا تو شرک کرنے والا مشرک کیوں نہیں کہلایا جائے گا۔ 7۔ کلمہ پڑھنے کے بعد اگر ایک ہند و مندر جاتا ہے تو یہ کام اس کے مسلمان ہونے میں رکاوٹ ہوگا اور اُسے بدستور ہندو سمجھا جائے گا۔ لیکن اگر دوسرا شخص کلمہ کا اقرار کرنے کے بعد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page