سوال و جواب
Urdu book, p. 247
By Maulana Wahiduddin Khan
قبر کا طواف کرتا رہے تو یہ عمل اس کے اسلام میں رکاوٹ کیوں نہیں بنے گا اور ایسا شخص مشرک کیوں نہیں ہوگا؟ 8۔ آپ کے لٹریچر اور کتابوں میں، میں نے قبر پرستی اور شرک کے پہلوؤں پر اتنا زیادہ زور نہیں دیکھا جتنا زور توحیدی ٹائپ کے لوگ لگاتے ہیں۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے، جب کہ آپ بھی شرک کے مخالف ہیں ، بلکہ سخت ترین مخالف ۔ ( عبداللطیف ، کراچی، 25 دسمبر 2002 )۔ جواب اختلاف کی برائی جو موجودہ مسلمانوں میں پائی جاتی ہے اُس کا سبب یہ نہیں ہے کہ مسلم جماعتیں توحید کے بجائے کسی اور عنوان پر کام کر رہی ہیں۔ اختلاف کا اصل سبب صرف ایک ہے، اور وہ انتہا پسندی (extremism) ہے۔ موجودہ زمانہ کی مسلم جماعتیں کسی نہ کسی پہلو سے انتہا پسندی کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کوئی اعتقادی انتہا پسندی کا شکار ہے، کوئی سیاسی انتہا پسندی کا، کوئی مسائلی انتہا پسندی کا، کوئی گروہی انتہا پسندی کا، کوئی کسی اور انتہا پسندی کا۔ یہی انتہا پسندی موجودہ نزاعات کا اصل سبب ہے۔ انتہا پسندی کو قرآن اور حدیث میں غلو کہا گیا ہے ۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِيَّا كُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّيْنِ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّيْنِ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3029 ؛ مسند احمد، حدیث نمبر 1851)۔ یعنی، تم غلو سے بچو، کیوں کہ پچھلی امتیں غلو ہی کے سبب سے ہلاک ہوئیں۔ غلو یا انتہا پسندی (extremism) کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ کسی بات کو اُس کی آخری منطقی حد (logical extreme) تک لے جایا جائے ۔ اور پھر اُس کی بنیاد پر انتہائی احکام صادر کیے جائیں ۔ اُس کی ایک مثال خود آپ کی زیر نظر تحریر میں موجود ہے۔ توحید پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader