Urdu book · حکمتِ اختلاف

سوال و جواب

Urdu book, p. 248

By Maulana Wahiduddin Khan

زور دینا بہت اچھا ہے۔ مگر یہ کہنا اتنا ہی غلط ہے کہ "یہ کلمہ پڑھنے والے مسلمان چونکہ شرک کرتے ہیں اور شرک کی موجودگی میں نیک اعمال قبول نہیں ہوتے۔ لہذا ہم موحد لوگ ان قبر پرستوں (بریلویوں اور شیعوں وغیرہ) کے پیچھے نہ نماز پڑھیں گے اور نہ اُن کی جنازہ میں شریک ہوں گے"۔ اسی آخری بات کو حدیث میں غلو کہا گیا ہے۔ اور غلو خود ایک ہلاکت خیز عمل ہے۔ ایک شخص کو علم دین حاصل ہوا اور علم دین کی روشنی میں اُس نے یہ جانا ہو کہ توحید اسلام میں بنیادی عقیدہ کی حیثیت رکھتی ہے تو ایسے شخص کو حق ہے کہ وہ خیر خواہی کے جذبہ کے تحت لوگوں کو توحید کی طرف بلائے۔ لیکن اس اصلاحی دعوت کے ساتھ اگر وہ یہ حکم لگانے لگے کہ فلاں لوگ چونکہ اُس کے نزدیک مشرکانہ اعمال میں مبتلا ہیں اس لیے اُن کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ حتیٰ کہ اُن کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی جائے گی تو ایسا شخص خود اسلام کی نظر میں غلط کار قرار پائے گا۔ کیوں کہ وہ غلو کر رہا ہے اور غلو کی اسلام میں گنجائش نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اصلاح کا کام ایک بے حد نازک کام ہے۔ اُس کی ناگزیر شرطوں میں سے ایک شرط یہ ہے کہ مصلح ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جانے۔ اُس کو یہ جاننا چاہیے کہ اُس کی ذمہ داری صرف پرامن انداز میں صراط مستقیم سے باخبر کرنا ہے۔ یہ اُس کی سرے سے ذمہ داری ہی نہیں کہ وہ متعین طور پر لوگوں کے بارے میں حکم لگائے کہ فلاں شخص مشرک ہے۔ مصلح کو چاہیے کہ وہ مشرک ہونے کے معاملہ کو خدا کے حوالہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو صرف خیر خواہانہ نصیحت تک محدود رکھے۔ جن لوگوں کے اندر فرق کرنے کی یہ صلاحیت نہ ہو، اُن کا اصلاح کے میدان میں آنا بذات خود ایک جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کے سوالات کا نمبروار جواب حسب ذیل ہے: 1۔ کسی مصلح کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ سنجیدگی اور خیر خواہی کے ساتھ شرک کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page