Urdu book · حکمتِ اختلاف

سوال و جواب

Urdu book, p. 249

By Maulana Wahiduddin Khan

مسئلہ کو بتائے۔ کسی مصلح کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی متعین شخص کو مشرک قرار دے اور اُس کے اوپر شرک کے احکام نافذ کرنے کی کوشش کرے۔ پہلا کام یقینی طور پر جائز ہے مگر دوسرا کام یقینی طور پر جائز نہیں۔ جولوگ ایسا کریں وہ مفسد ہیں، نہ کہ مصلح۔ 2۔ مشرک کسی قوم یا نسل کا نام نہیں۔ کسی بھی شخص سے شرک کا فعل سرزد ہو سکتا ہے۔ مگر تعین کے ساتھ کسی کو مشرک قرار دینے کا حق صرف خدا کو ہے، انسان کو نہیں۔ 3۔ کوئی مقتدی امام کی نماز نہیں پڑھتا۔ ہر مقتدی خود اپنی نماز پڑھتا ہے۔ امام کے سبب سے کسی مقتدی کی نماز نہ مقبول ہوتی ہے اور نہ غیر مقبول۔ قبولیت کا تعلق تمام تر ہر آدمی کی اپنی نیت سے ہے۔ باجماعت نماز کا مقصد صرف اجتماعیت ہے۔ جس امام کے پیچھے بھی اجتماعیت کا یہ مقصد حاصل ہو جائے وہ درست قرار پائے گا۔ یہ بات حدیث میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: الصَّلاَةُ المَكْتُوبَةُ وَاجِبَةٌ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 594)۔ یعنی، فرض نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے، خواہ وہ نیک ہو یا بد اور خواہ اُس نے کبیرہ گناہ کیا ہو۔ یہاں اگر کوئی یہ نکتہ نکالے کہ حدیث میں فاجر یا مرتکب کبائر کا لفظ ہے۔ اُس میں مشرک کا لفظ نہیں تو یہ بھی اُسی غلو کی ایک صورت ہوگی جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ اس قسم کے غلو کرنے والوں پر فرض ہے کہ وہ چپ رہیں، نہ کہ اس قسم کے فتنہ انگیز الفاظ بول کر امت میں نزاع پیدا کریں۔ 4۔ کس مصلّیٰ کی نماز ہوئی اور کس مصلّیٰ کی نماز نہیں ہوئی، اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار تمام تر اللہ تعالیٰ کو ہے۔ جولوگ کسی مصلّیٰ کی نماز پر ہونے یا نہ ہونے کا حکم لگائیں وہ اپنی حد سے تجاوز کرتے ہیں اور حد سے تجاوز کرنا بلا شبہ سخت گناہ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page