Urdu book · حکمتِ اختلاف

سوال و جواب

Urdu book, p. 254

By Maulana Wahiduddin Khan

مسالک نہیں بنے ۔ جب کہ موجودہ زمانہ میں اس قسم کے اختلافات کو لے کر انتہا پسندانہ گروہی مسالک بنا دیے گئے ہیں۔ اس معاملہ کو میں نے اپنی کتاب " تجدید دین " میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اسلامی شریعت کے دو بڑے حصے ہیں۔ ایک بنیادی احکام کا حصہ اور دوسرے ضمنی اور فروعی احکام کا حصہ۔ بنیادی احکام سب کے سب یکساں ہیں، اُن میں کوئی فرق و اختلاف نہیں۔ مگر ضمنی اور فروعی احکام میں بہت سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ دونوں قسم کے احکام کے درمیان یہ فرق عین فطری ہے اور وہ ہمیشہ باقی رہے گا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ فروعی اختلافات کو توسع اور تنوع ( diversity) پر محمول کیا جائے ۔ اُن کے معاملہ میں رواداری کا انداز اختیار کیا جائے ، نہ کہ شدت پسندی کا انداز۔ سوال سوال یہ ہے کہ جب ہم سب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت سے ہیں، ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتے ہیں، تو پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم نے الگ الگ فرقے اور مسلک بنا لیے ہیں۔ (ایس امین پاشا، کرناٹک ) جواب مسلمانوں میں مسلک کی بنیاد پر جو مختلف گروہ ہیں، حنفی، شافعی، مالکی، جنبلی، سلفی، یہ تمام گروہ بعد کے زمانے میں بنے ہیں۔ صحابہ اور تابعین کے زمانے میں یہ گروہ موجود نہ تھے۔ جو گروہ بندی دورِ اول میں نہ ہوئی ہو، بلکہ بعد کے زمانے میں وجود میں آئی ہو، وہ اپنے آپ میں قابلِ رڈ ہے۔ یہ مختلف گروہ فقہی مسلک کی بنیاد پر بنے ہیں، لیکن کوئی بھی گروہ کسی بنیادی اختلاف کے تحت نہیں بنا ہے، بلکہ وہ صرف جزئیات میں اختلاف کے تحت بنا ہے۔ یہ جزئی اختلافات بے اصل نہیں ہیں ، وہ خود صحابہ کے درمیان موجود تھے۔ پھر کیا وجہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page