سوال و جواب
Urdu book, p. 255
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ صحابہ کے زمانے میں ان جزئیات کی بنا پر الگ الگ گروہ نہیں بنے ، مگر بعد کے زمانے میں انھیں جزئیات کو لے کر الگ الگ گروہ بن گئے۔ اس فرق کا سبب جزئیات میں غلو (extremism) ہے۔ صحابہ اور تابعین کے زمانے میں یہ تصور تھا کہ جزئیات میں توسع ہے ، یعنی ان میں سے جس پر چاہو، عمل کر سکتے ہو، تم ہدایت پر رہو گے (بأیهم اقتديتم اهتديتم) جامع بیان العلم، وفضلہ لابن عبد البر: 1684_ لیکن عباسی دور کے فقہا نے جزئیات کے معاملے میں غلو کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے ہر ایک درست نہیں ہوسکتا، ایک درست ہوگا تو دوسرا غلط ہوگا۔ انھوں نے غیر ضروری بحثوں کے ذریعے تعدد میں تو حد پیدا کرنے کی کوشش کی، یعنی کئی کو ایک بنانا۔ جزئیات میں اس غلو یا تشدد کی بنا پر مختلف فقہی گروہ بن گئے۔ قرآن اور حدیث میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ غلو اسلام میں نہیں ہے۔ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ مسلمان، صحابہ اور تابعین کے دور کی طرف لوٹیں۔ وہ اس اصول کو مان لیں کہ یہ مختلف فقہی مسالک مبتدعانہ طور پر وجود میں آتے ہیں۔ وہ قابل ترک ہیں، نہ کہ قابل پیروی۔ سوال میرے ایک عزیز نے مجھے تین سو صفحہ کی ایک کتاب دی۔ اس کا نام 'نماز نبوی' ہے۔ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ حدیث لکھی ہوئی ہے کہ اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6008)۔ جن صاحب نے مجھ کو یہ کتاب دی انہوں نے کہا کہ عرب میں زیادہ تر لوگ اسی طرح نماز پڑھتے ہیں۔ اس کتاب کے مطابق، مرد و عورت کے نماز پڑھنے کے طریقہ میں کوئی فرق نہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ہر رکعت کے شروع میں رکوع اور سجدہ سے پہلے ”رفع یدین“ (دونوں ہاتھ کندھوں اور کانوں تک اٹھانا) کرنا ہے۔ عشا کی وتر کی تیسری رکعت میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader