Urdu book · حکمتِ اختلاف

سوال و جواب

Urdu book, p. 256

By Maulana Wahiduddin Khan

دعا قنوت کی جگہ ایک اور دعا کا پڑھنا ہے۔ اس طرح کے کئی طریقوں پر زور دیا گیا ہے جو ہم لوگوں کی نماز سے الگ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کتاب میں بتایا ہوا طریقہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ ہے اور کیا مجھ کو اپنے موجودہ حنفی طریقہ کو چھوڑ کر اس کتاب میں بتائے ہوئے طریقہ پر نماز پڑھنا چاہیے ؟ ( صوفیہ حیدر، بتیا، بہار)۔ جواب یہ صحیح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6008)۔ یعنی، اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات عمومی مفہوم میں ہے، نہ کہ کلی مفہوم میں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی ادائیگی کے اعتبار سے تم لوگ میرے طریقہ پر نماز پڑھو۔ جہاں تک جزئی پہلوؤں کا تعلق ہے، وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں مختلف ہے۔ اس لیے رسول اللہ کے اس قول کو کلی مفہوم میں لینا ممکن ہی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے تھے۔ اس کو معلوم کرنے کا ذریعہ آپ کے اصحاب کی روایتیں ہیں۔ اصحاب رسول کی یہ روایتیں حدیث کی مستند کتابوں میں تفصیل کے ساتھ موجود ہیں۔ ان روایتوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اصحاب رسول نے آپ کی نماز کے جو طریقے بتائے ہیں وہ سب کے سب یکساں نہیں ہیں، بلکہ ان میں بہت سے فرق ہیں۔ ان روایتوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ نماز کے کچھ اجزا کے بارے میں تمام صحابہ متفق الرائے ہیں۔ مثلاً فجر کی دو رکعت، ظہر کی چار رکعت اور مغرب کی تین رکعت۔ اسی طرح ہر رکعت میں رکوع ایک بار اور سجدہ دو بار۔ یہ اجزا وہ ہیں جن میں کسی بھی صحابی کا کوئی اختلاف منقول نہیں۔ مگر نماز کے کچھ اور اجزا ہیں جن میں خود صحابہ کی روایتوں میں اختلاف پایا جاتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page