سوال و جواب
Urdu book, p. 257
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ مثلاً کسی روایت سے آمین بالجہر کا ثبوت ملتا ہے تو کسی روایت سے آمین بالسّر کا۔ کسی روایت میں رکوع اور سجدہ کے لیے ایک ذکر ہے تو دوسری روایت میں دوسرا ذکر، وغیرہ۔ آپ نے مذکورہ کتاب میں رسول اللہ کی نماز کا جو طریقہ پڑھا، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حدیث کی کتابوں میں صرف اسی طریقہ کا تذکرہ ہے جو اس کتاب میں درج ہے۔ ”نماز نبوی“ کی یہ تصویر انتخابی طور پر بنائی گئی ہے، نہ کہ کلی طور پر۔ یعنی کچھ روایتوں کو لے کر کہہ دیا گیا کہ یہ نماز نبوی ہے اور اس کے برعکس دوسری روایتوں کو، یا تو لیا نہیں گیا، یا یہ کہہ دیا گیا کہ وہ یا تو منسوخ ہیں یا مرجوح ہیں یا غیر افضل ہیں۔ ترجیح کا یہی خود ساختہ اصول حنفی لوگ بھی استعمال کرتے ہیں اور غیر حنفی لوگ بھی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتب حدیث کی جن روایتوں کو منسوخ یا مرجوح یا غیر افضل قرار دیا جاتا ہے، ان کی اس نوعیت کا علم کہاں سے ہوا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خود روایت کے متن سے ان کی یہ نوعیت ثابت نہیں ہوتی۔ یہ دعویٰ تمام تر فقہا کے اپنے قیاس پر مبنی ہے اور عبادت کے معاملہ میں قیاس قابل اعتبار نہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، یہ قیاسی فقہ تبع تابعین کے دور میں پیدا ہوئی۔ اس سے پہلے صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں نماز نبوی کی انتخابی تصویر کا طریقہ رائج ہی نہ تھا۔ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں بھی طریق نماز میں یہ اختلافات عملاً موجود تھے۔ مگر وہ لوگ یہ نہیں کرتے تھے کہ مختلف طریقوں میں سے کسی ایک طریقے کو درست قرار دینے کی کوشش کریں، بلکہ ان کا کہنا یہ تھا کہ مختلف صحابہ میں سے جس صحابی کے طریقے کی بھی تم پیروی کرو گے تم ہدایت پر ہوگے اور تمہاری نماز درست نماز قرار پائے گی (لَقَدْ أَوْسَعَ اللَّهُ عَلَى النَّاسِ بِاخْتِلَافِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم، أَيُّ ذَلِكَ أَخَذْتَ بِهِ لَمْ يَكُنْ فِي نَفْسِكَ مِنْهُ شَيْءٌ) جامع بيان العلم لابن عبد البر، اثر نمبر 1685۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader