سوال و جواب
Urdu book, p. 258
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل یہ ہے کہ ظاہری اعتبار سے نماز کے دو حصے ہیں۔ ان میں سے ایک کو ارکانِ نماز اور دوسرے کو آدابِ نماز کہا جا سکتا ہے۔ ارکان سے مراد نماز کے وہ اجزا ہیں جن میں تمام صحابہ متفق ہیں اور جن میں تمام صحابہ کی روایتیں ایک ہی تصویر پیش کرتی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں آداب سے مراد نماز کے وہ جزئی پہلو ہیں جن میں صحابہ کی روایتوں میں فرق واختلاف پایا جاتا ہے۔ اس صورت حال کی صحیح توجیہ یہ ہے کہ ارکانِ نماز میں تو حدّ (یکساںیٹ) مطلوب ہے اور آدابِ نماز میں تنوع۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ مختلف روایتوں میں سے کچھ روایتوں کو چھوڑتے ہیں اور کچھ روایتوں کو لیتے ہیں اور پھر اپنی منتخب روایتوں کی بنیاد پر ایک تصویر بنا کر کہتے ہیں کہ یہ نماز نبوی (صلوٰۃ النبی) ہے۔ ان لوگوں سے کہا جائے کہ جن ثابت شدہ روایتوں کو آپ نے چھوڑا ہے وہ بھی تو آخر نماز نبوی ہی کا حصہ ہیں۔ اس کے جواب میں وہ یہ کہیں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بیان جواز“ کے لیے ایسا کیا۔ بیان جواز کا مطلب یہ ہے کہ ایک عبادتی کام کو معروف طریقے کے علاوہ اس دوسرے طریقے سے بھی انجام دیا جا سکتا ہے، مگر وہ رکمینڈڈ (recommended) نہیں۔ مگر ”بیان جواز“ کا یہ نظریہ قیاسی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب نماز کا کوئی واحد معین طریقہ مطلوب تھا تو اس کی کیا ضرورت تھی کہ ”بیان جواز“ کے لیے ایک مختلف طریقہ کا نمونہ قائم کیا جائے۔ وہ چیز جو ارکان کی حیثیت رکھتی ہیں وہاں آپ نے بیان جواز کی خاطر کبھی کوئی فرق نہیں کیا۔ پھر بیان جواز کا جو اصول ارکانِ نماز میں غیر مطلوب تھا وہ آدابِ نماز میں کیوں مطلوب ہو گیا۔ اس معاملہ کی نوعیت امام شافعی کی طرف منسوب اس قول سے بہت اچھی طرح واضح ہوتی ہے۔ یعنی اگرچہ خود بھی انہوں نے انتخابی اصول کو استعمال کرتے ہوئے نمازِ نبوی کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader