Urdu book · حکمتِ اختلاف

سوال و جواب

Urdu book, p. 259

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک طریقہ اختیار کیا۔ مگر اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ــــ رَأْيِي صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ وَرَأْيِي غَيْرِي خطأٌ يَحْتَمِلُ الصواب ( میری رائے درست ہے احتمال خطا کے ساتھ اور دوسروں کی رائے غلط ہے احتمال صحت کے ساتھ )۔ انتخابی تصویر بنانے کی ساری کوشش کے بعد بھی کیا وجہ ہے کہ دونوں فریقوں کے حق میں صرف احتمال خطا یا احتمال صواب ہی حاصل ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک فریق جب کچھ منتخب روایتوں کو لے کر اپنی تصویر مکمل کرتا ہے تو اُس کے بعد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ میری تصویر کے علاوہ بھی بہت سی مختلف روایتیں حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں جن کو رد کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں تطبیق کا فارمولا وہ نہیں ہے جو امام شافعی نے اپنے مذکورہ قول میں پیش کیا۔ اس کے بجائے تطبیق کا صحیح فارمولا یہ ہے کہ آداب نماز میں فرق و اختلاف کے معاملہ کو تنوع (diversity) پر محمول کیا جائے۔ یعنی یہ بھی ٹھیک ہے اور وہ بھی ٹھیک۔ آخری بات یہ ہے کہ آداب نماز کے معاملہ میں روایتوں کا اختلاف کوئی نقص کی بات نہیں بلکہ وہ عین مطلوب ہے۔ نماز کوئی مشینی عمل نہیں، وہ کیفیت کے ساتھ ادا کیا جانے والا ایک روحانی عمل ہے۔ مشینی عمل میں کلی یکسانیت ہوسکتی ہے مگر کیفی عمل میں کلی یکسانیت ممکن نہیں۔ کیفی عمل میں بنیادی ارکان کے اعتبار سے تو ضرور یکسانیت ہوگی مگر اس کے جزئی پہلوؤں میں فطری طور پر کچھ نہ کچھ فرق ہو جائے گا اور یہ فرق عبادت گزار کی داخلی کیفیت کی بنا پر ہوگا۔ داخلی کیفیت کے اعتبار سے نماز کے جزئی پہلوؤں میں فرق ہونا خود احادیث سے ثابت ہے۔ مثال کے طور پر ایک صحابی کا رکوع سے اٹھنے کے بعد خلاف معمول طور پر یہ کہہ اٹھنا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً كَثِيراً طَيِّباً مُبَارَكاً فِيهِ ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کی تصدیق فرمانا ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 799 )، وغیرہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page