حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر آدمی اپنی سوچ اور اپنے جذبات کے لحاظ سے ایک مستقل ہستی ہے، وہ اپنے آپ میں ایک کائنات ہے۔ ہر آدمی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ جیسے چاہتا ہے، ویسے دنیا میں رہے۔ وہ اپنے خوابوں کے مطابق ایک پسندیدہ دنیا کی تعمیر کر سکے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان کو ایک ایسی دنیا میں رہنا پڑتا ہے جس کو اس نے خود نہیں بنایا ہے۔ وہ ایک ایسے ماحول میں جینے پر مجبور ہے جس کی تشکیل اس نے خود نہیں کی۔ ایسی حالت میں عورت یا مرد کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے ـــ یا تو وہ دنیا سے عدم موافقت کی پالیسی اختیار کرکے خودکشی کرلے، ذہنی خودکشی یا جسمانی خودکشی۔ اس کے لیے دوسرا انتخاب یہ ہے کہ وہ بظاہر غیر مطلوب دنیا کے ساتھ موافقت کرنے کا آرٹ سیکھے، وہ ناممکن سے نہ ٹکرائے اور صرف ممکن کے دائرے میں رہتے ہوئے زندگی گزارے۔ اختلاف ایک رحمت ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: اِخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةً (المقاصد الحسنہ، حدیث نمبر 39) ـــ یعنی میری امت کا اختلاف ایک رحمت ہے۔ یہ حدیث سند کے اعتبار سے ضعیف سمجھی جاتی ہے۔ لیکن معنی کے اعتبار سے وہ قوی ہے۔ اس حدیث میں ایک فطری حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ اختلاف (difference) کسی گروہ کا مسئلہ نہیں، اختلاف ایک فطری امر ہے۔ انسانوں کے درمیان ہمیشہ اختلافات ہوتے ہیں۔ مذہبی اعتبار سے بھی اور سیکولر اعتبار سے بھی۔ کوئی سماج کبھی رائے کے اختلاف سے خالی نہیں ہوتا۔ رائے کے اختلاف کو اگر فطری درجہ میں رکھا جائے تو وہ لوگوں کے لیے ایک رحمت (blessing) ثابت ہوگا۔ صحیح یہ ہے کہ اختلاف پیش آنے پر تحمل کا طریقہ اختیار کیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader