سوال و جواب
Urdu book, p. 260
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال احادیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے مسائل میں صحابہ کی روایتوں میں اختلاف ہے۔ مثلاً بعض روایتوں میں سینے پر ہاتھ باندھنے کا ذکر ہے اور بعض دوسری روایتوں میں ناف کے نیچے باندھنے کا۔ اس طرح کے اختلافات کی موجودگی میں اس فرمانِ رسول پر کس طرح عمل کیا جائے گا: صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُوْنِيْ أُصَلِّي ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 6008)۔ یعنی، تم لوگ اس طرح نماز پڑھو، جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ (محمد امین گڈو، سری نگر، کشمیر) جواب اس طرح کے اختلاف سے معلوم ہوتا ہے کہ آدابِ نماز میں توسع کا اصول ہے۔ اس لیے تو حد کے اصول پر کوئی ایک نمونہ قائم کرنے کی کوشش درست نہیں۔ فقہا کی کثیر تعداد نے بجاطور پر کہا ہے کہ ــــــ رَأْيِي صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ وَرَأْيُ غَيْرِي خَطَأٌ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ (میری رائے درست ہے احتمال خطا کے ساتھ اور فریق ثانی کی رائے غلط ہے احتمال صواب کے ساتھ)۔ ظاہر ہے کہ اس معاملہ میں روایتوں کے اختلاف کو ایک ثابت کرنے کی ساری کوشش کے باوجود صرف احتمال ثابت ہوتا ہے تو زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس اختلاف کو توسع پر محمول کیا جائے اور میرے نزدیک یہی محدثین کا مسلک تھا۔ نماز اپنی حقیقت کے اعتبار سے خشوع کا ایک عمل ہے، نہ کہ محض کچھ ظواہر کی صحت ادائینگی کا عمل۔ ایسی حالت میں ظاہری آداب میں فرق ہونا ایک فطری بات ہے۔ نمازی کو چاہیے کہ اپنا سارا دھیان داخلی کیفیت پر دے، نہ کہ ظاہری ہیئت پر۔ چنانچہ ظاہری ہیئت کی صحت ادائینگی کے باوجود ایک شخص کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader