سوال و جواب
Urdu book, p. 262
By Maulana Wahiduddin Khan
میں موجود تھا۔ صحابہ کے مشورے سے اس پورے ڈھیر کو اُس کے مالکان کو واپس نہیں کیا گیا، بلکہ اُن سب کو جلا کر ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد صفحہ 8 پر آپ نے حضرت عثمان کے زمانے میں اختلافِ قراء ات کا حوالہ دیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ بہت سے صحابہ نے بطور خود لکھ کر قرآن کے اپنے اپنے مجموعے تیار کر رکھے تھے جن میں بہت سے فرق موجود تھے ۔ ان نسخوں کی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے زمانے میں قراء اتِ قرآن کے بارے میں لوگوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ کوئی شخص ایک انداز سے قرآن پڑھتا، اور کوئی دوسرے انداز سے۔ اس لیے حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ نے ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کے زمانے کا تیار کردہ مستند نسخہ حضرت حفصہ کے گھر سے منگوایا۔ اْس کی بہت سی نقلیں تیار کرائیں۔ مسلم ممالک کے مرکزی شہروں میں قرآن کی یہ مستند نقلیں اور معیاری نسخے بھجوائے اور پھر صحابہ کے جمع کردہ نسخوں میں قراء اتِ قرآن میں فرق کا جو مسئلہ موجود تھا، اُس کا حل یہ نکالا کہ ان تمام غیر سرکاری نسخوں کو اکٹھا کروایا اور پھر صحابہ کی موجودگی میں اُن کو جلا کر ختم کر دیا۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کی رائے میں اختلافِ قراء ات کا مسئلہ کیا ہے؟ ہمارے ہاں اس حوالے سے جو روایات پائی جاتی ہیں اور پھر ہمارے مدارس میں سبعہ یا عشرہ قراء اتِ جو پڑھائی جاتی ہیں، کیا اُن کو تسلیم کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے؟ اور کیا اس طرح معنوی پہلو سے قرآن کے مطالب میں جو فرق واقع ہوتا ہو، خواہ وہ بظاہر بالکل معمولی قسم کا ہو، اِس سے قرآن کی حتمیت و حاکمیت اور لاریب فیہ کی حیثیت میں کوئی رخنہ پیدا نہیں ہوتا؟ ( اسفندیار عظمت ، پاکستان ) جواب حدیث کی مختلف کتابوں میں ایک روایت آتی ہے، اس کو قراء اتِ سبعہ کی روایت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader