سوال و جواب
Urdu book, p. 263
By Maulana Wahiduddin Khan
کہا جاتا ہے ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ مختلف عرب قبائل سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان قبائل کی زبان مشترک طور پر عربی تھی ، لیکن ہر ایک کا لہجہ الگ الگ تھا ، جیسا کہ ہر زبان میں ہوتا ہے ۔ جب قرآن لوگوں کے درمیان پھیلا تو ہر ایک اپنے اپنے قبیلے کی زبان میں اُس کو پڑھنے لگا۔ اس پر لوگوں کے درمیان اختلافات ہوئے ۔ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک لہجے میں قرآن کو سنتے اور صحابہ اس کو دہراتے تو وہ مختلف لہجات (accents) میں کو دہراتے ۔ یہ اختلاف بعض اوقات شدت اختیار کر لیتے ، یہاں تک کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک بار ایک صحابی کو اپنے سے مختلف لہجے میں قرآن کو پڑھتے ہوئے سنا تو انھوں نے کہا کَذَبْتَ (تم نے جھوٹ کہا) ۔ جب یہ اختلاف بڑھا تو لوگ اس مسئلے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے ۔ آپ نے ہر ایک کے قرآن کو پڑھوا کر سنا اور پھر ہر ایک کے لہجے کی تصویب فرمائی (ہَكَذَا أُنْزِلَتْ) ۔ آپ نے کہا کہ تم جس طرح پڑھتے ہو ، اسی طرح پڑھو ، کیوں کہ قرآن سات لہجوں میں اتارا گیا ہے ۔ إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ( مسند احمد ، حدیث نمبر 158) ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے ایک دوسرے صحابی سے کہا: اِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَأَيٌّ ذَلِكَ قَرَأْتُمُ أَصَبْتُمُ، فَلَا تَمَارُوا فِي الْقُرْآنِ، فَإِنَّ مِرَاءً فِيهِ كَفْرُ ( فضائل القرآن لابی عبید ، صفحہ 337 ) ۔ بیشک قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے ، پس تم جس طریقے سے قرأت کروگے ، تم نے درستگی کو پالیا ۔ تم لوگ قرآن میں جھگڑا نہ کرو ، کیوں کہ قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے ۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو فتح الباری لابن حجر العسقلانی ، جلد 8، صفحہ 639۔ اس سلسلے کی مختلف روایات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سات قرآت کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader