سوال و جواب
Urdu book, p. 264
By Maulana Wahiduddin Khan
مطلب، سات مطلوب قراءت نہیں ہے، بلکہ سات رعایتی قراءت ہے۔ قرآن کی مطلوب قراءت صرف وہی ہے جو قبیلہ قریش کے لہجے کے مطابق ہے۔ کیوں کہ عرب میں قریش کا لہجہ ہی اسٹینڈرڈ لہجہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ زبان کا لہجہ ابتدائی عمر میں بن جاتا ہے۔ کوئی آدمی بعد کی عمر میں اپنے لہجے کو بدلنے پر قادر نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ فیصلہ ہوا کہ جہاں تک قرآن کی کتابت کا معاملہ ہے، اُس کو قریش کے اسٹینڈرڈ لہجے کے مطابق لکھا جائے گا، البتہ رعایتی طور پر لوگوں کو اجازت ہوگی کہ لوگ اپنے اپنے قبیلے کے لہجے کے مطابق، قرآن کو پڑھیں۔ اس حقیقت کو ایک دوسری روایت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ (موطا امام مالک، حدیث نمبر 242)۔ یعنی، اس میں سے جو آسان ہو، وہ پڑھو۔ سوال ایک بڑی جماعت ہے جس کا نام ”جماعت المسلمین“ ہے۔ مسلمانوں کی یہ جماعت اس بات پر بہت زور دیتی ہے کہ اسلام میں فرقہ بندی نہیں بلکہ فرقہ بندی شرک ہے، لعنت ہے، کفر ہے اور عذاب ہے بلکہ فرقہ بندی حرام بھی ہے: وَلَا تَفَرَّقُوا (3:103)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میری امت کے 72 فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک فرقہ جنتی ہے، اور وہ ”الجماعتہ“ ہے (مسند احمد، حدیث نمبر 16937)۔ کتاب اللہ اور فرمان رسول کے مطابق، تمام مسلمانوں کو جماعت المسلمین سے جُڑنا چاہیے اور اُس کے امیر کی اطاعت کرنی چاہیے اور تمام فرقوں سے علیحدہ رہنا چاہیے: تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ... فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3606؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 3606)۔ مزید برآں جماعت المسلمین کہتی ہے کہ اسلام نے اجتماعیت کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader